ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا جاری عالمی ثقافتی سرگرمیوں اور سیاحتی ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے ملک میں ہونے والی بین الاقوامی ثقافتی تقریبات، سیاحت کے فروغ اور بڑے ثقافتی و سیاحتی منصوبوں سے متعلق پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ حالیہ برسوں میں ازبکستان نے عالمی ثقافتی سطح پر اپنی موجودگی کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔

اجلاس کے دوران سمرقند میں ہونے والی یونیسکو کی جنرل کانفرنس کے تینتالیسویں اجلاس پر خصوصی توجہ دی گئی، جس میں دنیا کے ایک سو نوے ممالک سے تین ہزار سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ اس اجلاس کے اختتام پر ثقافتی ورثے کے تحفظ، تعلیم اور تخلیقی صنعتوں سے متعلق ازبکستان کے اقدامات پر عملدرآمد کے لیے ایک واضح لائحہ عمل منظور کیا گیا۔

صدر کو جاپان میں ہونے والی نمائش میں ازبکستان کی شرکت کے نتائج سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ازبکستان کے پویلین کو بڑی عالمی توجہ حاصل ہوئی اور تقریباً دس لاکھ افراد نے اس کا دورہ کیا۔ اس کامیابی کے بعد سعودی عرب میں ہونے والی آئندہ عالمی نمائش کے لیے بھی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے، جہاں ازبکستان کا ایک بڑا پویلین قائم کیا جائے گا۔

بخارا میں منعقد ہونے والی جدید فنون کی پہلی بینالے کے نتائج بھی پیش کیے گئے۔ اس ثقافتی تقریب میں دنیا کے چالیس سے زائد ممالک سے فنکاروں نے شرکت کی اور لاکھوں افراد نے مختلف تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ وینس بینالے میں ازبکستان کی مسلسل شرکت سے ملک میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ازبکستان میں حالیہ برسوں کے دوران عالمی سطح کے موسیقی پروگرام منعقد ہوئے، جن کی بدولت متعلقہ شہروں میں ہوٹلوں کی بھرپور بکنگ رہی اور سیاحت و خدمات کے شعبے کو نمایاں فائدہ پہنچا۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں ازبکستان آنے والے سیاحوں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدن اربوں ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ویزا فری سہولت رکھنے والے ممالک کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے۔

صدر شوکت مرزائیوف کو بتایا گیا کہ سیاحت کے شعبے کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کروایا جا رہا ہے، جس سے سیاحوں اور کاروباری افراد دونوں کو سہولت ملے گی۔ اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے لیے نئی تشہیری حکمت عملی بھی تیار کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ازبکستان کو عالمی سطح پر ایک نمایاں سیاحتی مقام کے طور پر پیش کرنا ہے۔

سمرقند میں تاریخی مقامات کو آپس میں جوڑنے کے لیے ایک خصوصی ثقافتی راستہ بنانے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا، جبکہ ریشم روڈ میوزیم اور بخارا کے لیے ایک جامع ترقیاتی منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

اجلاس کے اختتام پر صدر شوکت مرزیایوف نے ہدایت کی کہ ثقافتی منصوبوں کو سیاحت کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تاکہ یہ منصوبے نہ صرف ثقافتی بلکہ معاشی طور پر بھی پائیدار ثابت ہوں اور ان کا انتظام اعلیٰ معیار کے مطابق ہو

Author

اپنا تبصرہ لکھیں