2030 تک غربت کو مکمل ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ازبک صدر شوکت مرزائیوف

ازبکستان کے شہر نمگان میں تیسری بین الاقوامی کانفرنس "روڈ ٹو پراسپیرٹی” سے خطاب کرتے ہوئے ازبک صدر شوکت مرزائیوف نے کہا ہے کہ دنیا اس وقت سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی مسائل کا سامنا کر رہی ہے، جس کی وجہ سے عالمی معیشت کی رفتار سست ہو گئی ہے اور غریب افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ازبک صدر کے مطابق، ان کے ملک میں غربت کے خاتمے کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا دیا گیا ہے، اور خواتین و نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں اب تک 75 لاکھ افراد غربت سے نکالے جا چکے ہیں۔ غربت کی شرح 2024 میں 8.9 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ اس شرح کو سال کے آخر تک 6 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ہر شہری کو انفرادی سطح پر مدد دی جا رہی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ملک 2030 تک غربت کو مکمل ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

صدر مرزائیوف نے یہ بھی بتایا کہ ازبکستان نے زرعی اصلاحات کے ذریعے 800,000 شہریوں کی آمدن میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے لیے کپاس اور گندم کی زمینوں کو کم کر کے لوگوں کو چھوٹے قطعاتِ اراضی دیے گئے ہیں۔

کانفرنس میں اسلامی ترقیاتی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، جائیکا (جاپان)، اقوامِ متحدہ اور عالمی بینک سمیت 200 سے زائد ماہرین شریک ہیں۔ اجلاسوں میں اسلامی مالیات، انسانی سرمایہ کاری، اور کاروباری شمولیت جیسے موضوعات پر غور کیا گیا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں