ازبکستان اور پاکستان کے درمیان ٹرانس افغان ٹرانسپورٹ کوریڈور پر پیش رفت

ازبکستان اور پاکستان نے وسطی اور جنوبی ایشیا کو افغانستان کے راستے جوڑنے والے ازبکستان۔افغانستان۔پاکستان (UAP) ٹرانسپورٹ کوریڈور کی ترقی کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

خبر ایجنسی ٹرینڈ نیوز کے مطابق ازبکستان ریلوے کے نمائندوں نے پاکستان کی کمپنی ایس ایل جی ٹریکس گروپ لمیٹڈ کے ساتھ ملاقات کی، جس میں سامان کی ترسیل بڑھانے اور آپریشنز کو وسعت دینے کے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

فریقین نے نئے کارگو راستے متعارف کرانے، باقاعدہ کنٹینر ٹرین سروسز شروع کرنے اور نرخ طے کرنے پر اتفاق کیا تاکہ اس منصوبے کو تجارتی طور پر کامیاب بنایا جا سکے۔

مذاکرات میں لاجسٹکس کے نظام کو بہتر بنانے، سامان کی حفاظت یقینی بنانے اور آپریشنز میں تسلسل برقرار رکھنے کے طریقوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

عہدیداروں کے مطابق، ٹرانس افغان کوریڈور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے جنوبی ایشیائی منڈیوں تک رسائی فراہم کرے گا، جبکہ ازبکستان کو ایک علاقائی لاجسٹکس مرکز کے طور پر مستحکم کرے گا۔

واضح رہے کہ جولائی 2025 میں کابل میں افغانستان، ازبکستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی پہلی ملاقات ہوئی تھی، جس میں تینوں ممالک نے ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کے فزیبلٹی اسٹڈی کی تیاری کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

منصوبے کے تحت 573 کلومیٹر طویل ریلوے لائن ازبکستان کے شہر ترمذ سے افغانستان کے مزار شریف اور لوگر کے راستے پاکستان کے ضلع کرم کے مقام خرلاچی تک بچھائی جائے گی۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ ریلوے لائن سالانہ دو کروڑ ٹن تک مال برداری کی صلاحیت رکھے گی، جس سے وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان نقل و حمل کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔

یہ منصوبہ علاقائی رابطے کی مضبوطی اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے پاکستانی بندرگاہوں تک براہ راست رسائی کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں