افغان حکومت نے ازبکستان کے ساتھ 24 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کے توانائی منصوبوں کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدے اتوار کو افغان حکومت کے زیر انتظام ادارہ “د افغانستان بریشنا شرکت” اور ازبکستان کی وزارت توانائی کے درمیان ہوئے، جن کی تقریب کابل میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ازبک وزیر توانائی جُرابیک مرزا محمودوف اور افغان نائب وزیراعظم عبدالغنی برادر بھی شریک تھے۔
افغان حکومت کے مطابق معاہدوں کے تحت 500 کے وی سرخان۔دشتِ علوان ٹرانسمیشن لائن تعمیر کی جائے گی جس کی صلاحیت ایک ہزار میگاواٹ ہوگی، ارغندی سب اسٹیشن کو 800 ایم وی اے تک توسیع دی جائے گی، 220 کے وی کابل۔شیخ میسری ٹرانسمیشن لائن قائم کی جائے گی جس کی گنجائش 800 میگاواٹ ہوگی جبکہ ننگرہار کے شیخ میسری علاقے میں 126 ایم وی اے صلاحیت کا نیا سب اسٹیشن تعمیر کیا جائے گا۔ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے ازبکستان کی مالی معاونت سے 18 ماہ میں مکمل ہوں گے اور ان کے بعد افغانستان کو ازبکستان سے 800 سے 1000 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔
واضح رہے کہ افغانستان اپنی توانائی کی ضروریات کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ درآمد کرتا ہے، تاہم اکثر ان ممالک میں بڑھتی ہوئی طلب کے باعث افغانستان کو بجلی کی فراہمی متاثر رہتی ہے۔ اگرچہ ازبکستان نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا لیکن دونوں کے تعلقات قریبی ہیں۔ ازبکستان نے کابل میں اپنا سفارتخانہ کھلا رکھا ہے اور تاشقند میں افغان سفارتخانہ طالبان کے سفارتکاروں کے حوالے کردیا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدے بھی ہو چکے ہیں۔