ازبک اور افغان عبوری حکومت کے حکام نے آئندہ پانچ برسوں میں باہمی تجارت بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم کیا ہے۔ ازبکستان کے نائب وزیر اعظم جمشید خواجایف اور افغان عبوری حکومت کے وزیر صنعت و تجارت نورالدین عزیزی کے درمیان آن لائن اجلاس ہوا، جس میں تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے عملی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جمشید خواجایف نے پیر کے روز لنکڈ اِن پر اپنے بیان میں کہا کہ ازبکستان افغانستان کے ساتھ دوستانہ اور تعمیری تعلقات کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، 2021 میں باہمی تجارت کا حجم 65 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا جو 2025 تک بڑھ کر ایک ارب 70 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اب دونوں ممالک کا مشترکہ ہدف اسے بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فریقین نے ترجیحی تجارتی معاہدے پر تیزی سے عمل درآمد اور سرمایہ کاری و صنعتی تعاون کے منصوبوں کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ بیان کے مطابق، رمضان کے بعد عملی اقدامات شروع کیے جائیں گے جن میں کابل میں کاروباری فورم کا انعقاد اور ترجیحی شعبوں کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کی تیاری شامل ہے۔
نورالدین عزیزی نے اس حوالے سےکہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں آئندہ برسوں میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیرتان اور ترمذ سرحدی گزرگاہوں پر چوبیس گھنٹے آپریشن شروع کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ملک تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں ازبکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا حجم تقریبا ایک ارب 10 کروڑ ڈالر رہا، جس میں قریب ایک ارب ڈالر ازبکستان کی افغانستان کو برآمدات پر مشتمل تھا۔ 2021 سے قبل دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم چھ سو ملین ڈالر سے زائد ریکارڈ کیا گیا۔
افغانستان کی پاکستان کے ساتھ تجارت میں رکاوٹوں کے بعد وسطی ایشیائی ممالک، خصوصا ازبکستان اور قازقستان کے ساتھ ساتھ ایران، بھارت اور چین کے ساتھ تجارتی روابط میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں افغان حکام نے متبادل تجارتی راستوں کو فروغ دینے کی کوششیں تیز کی ہیں تاکہ پاکستانی بندرگاہوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔