ازبکستان کا 34 واں یومِ آزادی : صدر شوکت مرزائیوف کی قوم کو مبارکباد ،ترقی و اصلاحات کا عزم

تاشقند میں ‘نیو ازبکستان پارک ‘میں آزادی کی 34ویں سالگرہ کے جشن کی تقریبات منعقد ہوئیں جن سے صدر شوکت مرزائیوف نے خطاب کیا۔ صدر نے ازبکستان کے عوام اور بیرونِ ملک ہم وطنوں کو آزادی کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ‘نیو ازبکستان’ کے تحت کی جانے والی وسیع اصلاحات نے شہریوں کو حقوق و آزادیوں کا حقیقی احساس دلایا ہے۔

صدر مرزائیوف نے کہا کہ ملک کی معیشت مسلسل 6 فیصد سے زائد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے، جبکہ گزشتہ آٹھ برسوں میں جی ڈی پی دوگنی ہو کر 115 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے اور رواں سال کے اختتام تک 130 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت 130 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر پہلی بار 48 ارب ڈالر سے زائد ہو گئے ہیں۔

صدر نے زور دیا کہ ‘نیو ازبکستان’ میں کاروبار معیشت کی ترقی کا بنیادی محرک بن چکا ہے۔ صرف اس سال 9 ہزار نئی صنعتیں اور سروس کمپلیکس قائم کیے گئے ہیں جبکہ 79 بڑے منصوبے مکمل کر کے عوام کے حوالے کیے گئے ہیں۔

انہوں نے تعلیم، صحت اور نوجوانوں کی فلاح پر خصوصی توجہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں اسکولوں اور جامعات کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح 9 فیصد سے بڑھ کر 42 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صدر مرزائیوف نے توانائی کے شعبے میں سبز توانائی کے منصوبوں کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کی بجلی پیداوار کا 30 فیصد قابلِ تجدید توانائی پر مشتمل ہے اور 2030 تک یہ شرح 54 فیصد تک پہنچانے کا ہدف ہے۔

خطاب میں صدر نے کھیلوں، سیاحت اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غربت کی شرح 35 فیصد سے گھٹ کر 6.8 فیصد پر آ گئی ہے۔صدر مرزائیوف نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے واضح کیا کہ ازبکستان خطے کے ممالک خصوصاً وسطی ایشیائی ریاستوں، سی آئی ایس، شنگھائی تعاون تنظیم، یورپی یونین اور امریکہ سمیت عالمی طاقتوں سے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے عظیم تاریخی اصولوں کے مطابق جنگ اور آفات سے متاثرہ معصوم انسانوں کی مدد کرتے رہیں گے۔

خطاب کے اختتام پر صدر مرزائیوف نے کہاکہ،ہم سب ایک قوم، ایک ملک اور ایک خاندان ہیں۔ اگر ہم مل جل کر چلیں تو ہر مشکل پر قابو پا لیں گے۔زندہ باد ازبکستان، زندہ باد عوام ازبکستان

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں