ازبک صدر کا دورہ پاکستان، دوستی اور اعتماد کا نیا دور

پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جسے اگر “دوستی کے نئے دور” کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ پانچ اور چھ فروری کو ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیو کا دورۂ پاکستان محض ایک رسمی سفارتی ملاقات نہیں بلکہ دو برادر ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد، مشترکہ مفادات اور روشن مستقبل کی علامت ہے۔پاکستان اور ازبکستان کا رشتہ تاریخ، تہذیب اور روحانی روابط سے جڑا ہوا ہے۔ وسطی ایشیا اور برصغیر صدیوں تک علم، تجارت اور ثقافت کے قافلوں کا مرکز رہے۔ سمرقند، بخارا اور تاشقند جیسے شہر برصغیر کے علما، شعرا اور صوفیا کے لیے ہمیشہ کشش کا باعث رہے، جبکہ اردو زبان اور اسلامی تہذیب پر وسطی ایشیا کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں۔ یہی تاریخی رشتہ آج جدید سفارت کاری اور معاشی تعاون کی صورت میں ایک نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔

صدر شوکت مرزائیو کی قیادت میں ازبکستان نے گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ازبکستان کو ایک کھلے، متحرک اور علاقائی تعاون پر یقین رکھنے والے ملک کے طور پر متعارف کرایا۔ ان کی پالیسیوں کا مرکزی نکتہ ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات، علاقائی تجارت کا فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع اور عوامی سطح پر روابط کا استحکام رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ازبکستان وسطی ایشیا میں ایک ذمہ دار، فعال اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا بھی صدر مرزائیو کے اسی وژن کا حصہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح رابطوں میں اضافہ ہوا، متعدد معاہدے طے پائے اور تجارت، تعلیم، ٹرانزٹ، سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو وسعت ملی۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ تاشقند اور اسلام آباد ایک دوسرے کو محض دوست نہیں بلکہ اسٹریٹجک پارٹنرکے طور پر دیکھ رہے ہیں۔اس دورے کی ایک خاص اہمیت یہ بھی ہے کہ صدر مرزائیو کے ساتھ اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان آ رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ازبکستان پاکستان کے ساتھ عملی اور نتیجہ خیز تعاون کا خواہاں ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور علاقائی رابطہ کاری جیسے شعبوں میں گفتگو دونوں ممالک کے عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان کی بندرگاہیں وسطی ایشیا کے لیے قدرتی دروازہ ہیں، جبکہ ازبکستان وسطی ایشیا کی معیشت کا ایک مضبوط ستون بن کر ابھر رہا ہے۔

یہ بھی خوش آئند امر ہے کہ ازبکستان خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا حامی رہا ہے۔ صدر شوکت مرزائیو کی خارجہ پالیسی محاذ آرائی کے بجائے تعاون، اور تنہائی کے بجائے شراکت داری پر یقین رکھتی ہے۔ یہی سوچ پاکستان کے لیے بھی قابلِ قدر ہے، جو خطے میں امن اور اقتصادی رابطوں کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ازبک صدر کے دورے کے بعد قزاقستان کے صدر کا متوقع دورۂ پاکستان اس بات کا واضح پیغام ہے کہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان فاصلے کم ہو رہے ہیں۔ یہ پیش رفت پاکستان اور ازبکستان دونوں کے لیے خوش آئند ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطہ ایک نئے، مثبت اور تعمیری دور میں داخل ہو رہا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بڑھتے ہوئے اعتماد کو عملی منصوبوں، مسلسل رابطوں اور عوامی سطح کے تبادلوں میں تبدیل کیا جائے۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوستی محض حکومتوں تک محدود نہ رہے بلکہ تجارت، تعلیم، سیاحت اور ثقافت کے ذریعے عوام کے دلوں تک پہنچے۔صدر شوکت مرزائیو کا دورۂ پاکستان اسی امید کی علامت ہے۔ یہ دورہ اس بات کا پیغام دیتا ہے کہ دونوں ممالک ماضی کی مشترکہ تاریخ سے جڑ کر مستقبل کی مشترکہ ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر یہی رفتار اور نیت برقرار رہی تو پاک،ازبک دوستی آنے والے برسوں میں خطے کے استحکام اور خوشحالی کی ایک مضبوط مثال بن سکتی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں