ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے اپنے سرکاری دورہ امریکا کے دوران وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ ملاقات سے قبل صدر مرزائیوف نے وائٹ ہاؤس کے مہمانوں کی یادداشت کی کتاب پر دستخط بھی کیے۔
اوول آفس میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ازبکستان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، سیاسی مکالمے کے فروغ اور تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت و انسانی تعاون کے شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا۔
اس دوران ستمبر میں نیویارک میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران طے پانے والے معاہدوں کے عملی نفاذ پر بھی بات ہوئی۔ اس کے علاوہ دونوں صدور نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں وسطی ایشیائی ممالک اور امریکا کے درمیان C5+1فارمیٹ کے تحت تعاون کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی۔
صدر شوکت مرزائیوف نے صدر ٹرمپ کو ملکی اور غیر ملکی پالیسیوں میں کامیابیوں پر مبارکباد دیتے ہوئے عالمی اور علاقائی تنازعات کے پُرامن حل میں ان کی ذاتی کوششوں کو سراہا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے امریکی حکومت، کاروباری اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ صدر مرزائیوف کی حالیہ ملاقاتوں کے نتائج کو نہایت مثبت قرار دیا اور ان کی قیادت میں ازبکستان کی ترقی کی تعریف کی۔
دونوں رہنماؤں نے مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے اور دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ملاقات کے اختتام پر صدر شوکت مرزائیوف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی سہولت کے مطابق ازبکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔