ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے جمعرات کو آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ ازبک صدر نے آذربائیجان میں ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمی افرادکی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔گفتگوکے دوران دونوں رہنماؤں نے حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں غیرمعمولی اضافہ اور اس کے نتیجے میں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ایسے واقعات عالمی انسانی اقدار، بین الاقوامی قوانین اور ریاستوں کی علاقائی سالمیت کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
ازبک صدر نے ایران سے ازبک شہریوں کے محفوظ انخلا کے لیے اقدامات میں تعاون پر صدر الہام علیئیف کا شکریہ بھی ادا کیا۔ دوسری جانب، آذربائیجان کے صدر نے مشکل وقت میں دوستانہ گفتگو اور تعاون پر ازبک صدر کا شکریہ ادا کیا۔
اسی دوران ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف نے بھی آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بایراموف سے فون پر بات کی۔ اس موقع پر آذربائیجانی وزیر نے نخجوان خودمختار علاقے میں حالیہ ڈرون حملے کی تفصیلات بتائیں۔
دونوں فریقین نے ان حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور کسی دوسرے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔