ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف اپنی اہلیہ کے ہمراہ ورکنگ دورے پرامریکا پہنچ گئےہیں۔امریکی ریاست میری لینڈ میں اینڈریوز ایئر بیس پر امریکا-ازبکستان چیمبر آف کامرس کی چیئرپرسن کیرولین لیم سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔
بعد ازاں، واشنگٹن میں مختص سرکاری رہائش گاہ پر امریکی صدر کے خصوصی نمائندے پاؤلو زیمپولی نے ان کا خیرمقدم کیا۔
دورے کے دوران صدر شوکت مرزائیوف ‘بورڈ آف پیس’ کے پہلے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے اور متعدد کاروباری و سرمایہ کاری سے متعلق تقریبات میں بھی حصہ لیں گے۔ اس دورے کا مقصد دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا اور اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
بورڈ آف پیس ایک کثیر ملکی پلیٹ فارم کے طور پر قائم کی گئی ہے جس کا مقصد عالمی اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور پرامن سفارتی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔بورڈ آف پیس کا قیام جنوری 2026 میں سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں عمل میں آیا، جہاں معاہدے پر مختلف ممالک کے سربراہان اور نمائندوں نے دستخط کیے۔ ازبکستان بھی اس کے بانی ارکان میں شامل ہے، جسے ملک کی جانب سے پرامن سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کے عزم کی توثیق قرار دیا جا رہا ہے۔
ازبک حکام کے مطابق یہ اقدام عالمی برادری کی ان کوششوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد تنازعات کی روک تھام اور خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ جیسے خطوں میں سیاسی و سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔ تاشقند کی خارجہ پالیسی مسلسل مکالمے، بین الاقوامی قوانین کے احترام اور طاقت کے استعمال سے گریز پر زور دیتی آئی ہے۔ فلسطین کے مسئلے پر ازبکستان کا مؤقف بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور پائیدار حل کی حمایت پر مبنی ہے۔
صدر مرزائیوف کی بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت ایسے وقت ہو رہی ہے جب ازبکستان اور امریکا کے درمیان سیاسی روابط میں تیزی آئی ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران تاشقند اور واشنگٹن کے درمیان اعلیٰ سطح ملاقاتوں اور رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جسے دوطرفہ تعلقات کے نئے مرحلے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ برس ستمبر میں ازبک صدر نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی تھی، جہاں انہوں نے عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے بعد نومبر 2025 میں انہوں نے امریکا کا ورکنگ دورہ بھی کیا، جس میں امریکی صدر اور دیگر اہم شخصیات سے بات چیت ہوئی۔ ان ملاقاتوں میں اسٹریٹجک شراکت داری، تجارت و سرمایہ کاری، علاقائی سلامتی اور وسطی ایشیا کے حوالے سے تعاون پر زور دیا گیا۔
دونوں ممالک کے درمیان معاشی مکالمہ بھی فروغ پا رہا ہے، جبکہ توانائی، ڈیجیٹل نظام، بنیادی ڈھانچے اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر کام جاری ہے۔