ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے (5 تا 6 فروری) پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ نور خان ایئر بیس پر وزیراعظم اور صدر پاکستان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر صدر مرزائیوف کو 21 توپوں کی سلامی بھی پیچش کی گئی۔ دونوں برادر ممالک کے جھنڈے تھامے بچوں نے ان کا خیر مقدم کیا۔
ازبک صدر مرزائیوف ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جس میں کابینہ کے سینئر وزرا اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
اپنے دورے کے دوران ازبک صدر صدرِ پاکستان سے ملاقات کریں گے، وزیراعظم کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے اور پاکستان۔ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کریں گے۔

مذاکرات میں پاکستان اور ازبکستان کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا اور تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، عوامی روابط اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔
یہ صدر شوکت مرزائیوف کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری اور مشترکہ تاریخ، مذہب اور وسطی و جنوبی ایشیا میں امن و خوشحالی کی خواہشات پر مبنی برادرانہ رشتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ازبک صدر کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہے، اس سے قبل وہ 2022 میں پاکستان آئے تھے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دورہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں مسلسل بہتری اور دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط روابط کا عکاس ہے، جو مشترکہ تاریخ، مذہبی وابستگی اور وسطی و جنوبی ایشیا میں امن و خوشحالی کی مشترکہ خواہشات پر مبنی ہیں۔

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارتی اور معاشی تعاون کے شعبے میں تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ 2023 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جبکہ صنعتی تعاون کے لیے ایک روڈ میپ سمیت مزید مشترکہ منصوبوں پر بھی کام جاری ہے، جو خطے میں رابطوں کو فروغ دینے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔