ازبکستان، ترکمانستان اور آذربائیجان کا سیاحت اور ثقافت کو فروغ دینے کا فیصلہ

ازبکستان، ترکمانستان اور آذربائیجان نے سیاحت اور ثقافت کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے ایک جامع منصوبہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ ترکمانستان میں منعقد سہ فریقی اجلاس میں پیش کیا گیا، جس کا مقصد تینوں ملکوں کو مشترکہ طور پر دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک ’’کلچرل اور اکنامک گیٹ وے‘‘ کے طور پر متعارف کرانا ہے۔

اجلاس میں طے پایا کہ تینوں ممالک اپنے مشترکہ ورثے، تاریخ اور ثقافتی تنوع کو اجاگر کریں گے۔ منصوبے کے تحت تاریخی مقامات، نسلی گروہوں اور مقامی ثقافتوں کو عالمی سطح پر پیش کیا جائے گا۔ حکام نے اس موقع پر مشترکہ ٹورازم کوریڈورز، مشترکہ مارکیٹنگ مہمات اور علاقائی ثقافتی تقریبات کے انعقاد کا بھی اعلان کیا، تاکہ سیاحوں کو خطے کی کثیرالثقافتی شناخت سے متعارف کرایا جا سکے۔

اس پروگرام کے ذریعے ایک بار پھر ’’سلک روڈ‘‘ کے تصور کو زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو صدیوں تک یورپ اور ایشیا کو جوڑنے والا تجارتی راستہ رہا۔ اب اس تاریخی شاہراہ کو جدید سیاحتی راہداریوں کے طور پر پیش کیا جائے گا، جو سیاحوں کو صحرا، پہاڑوں اور بحیرہ کیسپین کے حسین مناظر سے روشناس کرائے گا۔

سیاحت کے ساتھ ساتھ اجلاس میں معیشت، توانائی اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم شعبوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ تینوں ممالک نے ایک بڑے ٹرانزٹ کوریڈور کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے، جو چین کو یورپ اور آگے جنوبی ایشیا و مشرقِ وسطیٰ سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام خطے کی معیشت کو تقویت دینے اور عالمی تجارتی نظام میں اس کے کردار کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ہوگا۔

توانائی کے شعبے میں تینوں ممالک نے پائیدار منصوبوں پر زور دیا۔ اجلاس میں شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے اور اسے یورپ برآمد کرنے پر غور کیا گیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ خطے کی قدرتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی سطح پر ماحول دوست توانائی کی طلب پوری کی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ بحیرہ کیسپین میں وسائل کے استعمال، توانائی کی ترسیل اور سمندری لاجسٹکس کو بھی مشترکہ تعاون کے ذریعے فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

ثقافتی سطح پر تینوں ممالک مشترکہ فیسٹیولز، ورثہ ٹورز اور مارکیٹنگ پروگرامز شروع کریں گے، تاکہ خطے کی ثقافت کو دنیا بھر میں اجاگر کیا جا سکے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے سیاحت بڑھے گی، جس کے نتیجے میں انفراسٹرکچر، مہمان نوازی اور مقامی کاروبار میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ سہ فریقی شراکت داری خطے کو ایک بار پھر مشرق و مغرب کو جوڑنے والے مرکز کے طور پر اجاگر کرے گی اور طویل مدتی استحکام اور ترقی کی بنیاد بنے گی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں