غزہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کا آغاز، صدر ٹرمپ کا غزہ ‘بورڈ آف پیس’ کے ممبرز کا اعلان

امریکا نے غزہ کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے جس میں اب جنگ بندی کے بجائے غزہ کو غیر مسلح کرنے، ٹیکنوکریٹک طرز حکومت قائم کرنے اور تعمیر نو پر توجہ دی جائے گی۔

امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطی اسٹیو وٹکوف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہےکہ جمعے کے روز متعارف کرایا گیا اعلیٰ سطح ‘بورڈ آف پیس’ اس بات کی علامت ہے کہ منصوبہ اب جنگ بندی سے آگے بڑھ کر غیر مسلح، انتظامی اصلاحات اور تعمیر نو کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق، یہ اقدام جنگ سے متاثرہ غزہ کو مستحکم کرنے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔

وٹکوف نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت غزہ میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹک فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے گی جسے ‘نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ’ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے اور تعمیر نو کا عمل شروع کیا جائے گا جس میں غیر مجاز مسلح افراد کو اسلحہ چھوڑنے پر زور دیا جائے گا۔

انہوں نے حماس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا توقع کرتا ہے کہ حماس اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے جن میں آخری یرغمالی کی باقیات کی فوری واپسی بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

اسٹیو وٹکوف کے مطابق، منصوبے کے پہلے مرحلے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں جن میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی، جنگ بندی کا تسلسل، تمام زندہ یرغمالیوں کی واپسی اور 28 میں سے 27 ہلاک یرغمالیوں کی باقیات کی واپسی شامل ہے۔ انہوں نے مصر، ترکی اور قطر کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ان ممالک نے معاہدے کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک ایگزیکٹو پینل تشکیل دیا گیا ہے جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطی اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا ،برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر، مارک رووان، روبرٹ گیبریئل اور نکولے ملادینوف شامل ہیں۔ یہ پینل غزہ میں حکمرانی، علاقائی سفارتکاری، تعمیر نو کی مالی معاونت اور سرمایہ کاری جیسے امور کی نگرانی کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق، وسیع تر ‘بورڈ آف پیس’ غزہ کو تنازع سے ترقی کی جانب لے جانے کے عمل میں بین الاقوامی وسائل کو مربوط کرے گا اور شفافیت کو یقینی بنائے گا۔ امریکا غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کرنے اور ایک اعلیٰ نمائندہ مقرر کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے، جو انتظامی، سکیورٹی اور تعمیر نو کے امور کو مربوط کرے گا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب زمینی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ حماس نے تاحال غیر مسلح ہونے سے انکار کر رکھا ہے اور آخری یرغمالی کی باقیات بھی واپس نہیں کی گئیں، جو پہلے مرحلے کی ایک اہم شرط تھی۔ اگرچہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے پر لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم وقفے وقفے سے جھڑپیں اور فضائی حملے جاری ہیں، جس کے باعث دیرپا امن کے امکانات غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس نئے بورڈ کو اب تک کا سب سے عظیم اور باوقار بورڈ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، آنے والے ہفتے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا امریکا اس منصوبے کو عملی پیش رفت میں بدل پاتا ہے یا نہیں، کیونکہ غزہ میں غیر مسلحی اور سیاسی تبدیلی سے متعلق مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں

Author

اپنا تبصرہ لکھیں