پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کے روز امید ظاہر کی ہے کہ امریکا جلد امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ دوبارہ شروع کرے گا اور حالیہ معطلی کو امریکا کے اندرونی جائزے کے عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔
امریکا نے بدھ کے روز پاکستان سمیت 74 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ کی معطلی کا اعلان کیا تھا جو 21 جنوری سے نافذ العمل ہے۔ اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ان ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن اکثر سرکاری فلاحی پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں۔اپنے بیان میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا اس بات کو یقینی نہ بنا لے کہ نئے تارکینِ وطن امریکی عوام کی دولت پر بوجھ نہیں بنیں گے۔
ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہےکہ بنیادی طور پر یہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کیا گیا ایک مختصر بیان تھا، جس میں امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ کے اندرونی جائزے کا ذکر کیا گیا ہے، جو اس وقت جاری ہے۔ترجمان نے مزید کہاکہ ہم مزید تفصیلات معلوم کرنے کے لیے امریکی حکام سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں امریکا کی امیگریشن پالیسیوں اور نظام کے اندرونی جائزے کا جاری عمل ہے، اور ہمیں امید ہے کہ امیگرنٹ ویزوں کی معمول کی پراسیسنگ جلد دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
یہ معطلی امریکا کے پبلک چارج رول سے منسلک ہے جس کے تحت یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا تارکینِ وطن کے سرکاری معاونت پر انحصار کرنے کا امکان ہے یا نہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی ویزا سروسز کی معطلی ہو چکی ہے، تاہم حکام نے اس اقدام کے دائرہ کار کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔
ویزا سروسز کی بحالی کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی، تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جائزہ مکمل ہونے پر ممالک کو مطلع کر دیا جائے گا