امریکا کی داخلی کمزوریاں اور شٹ ڈاؤن کا دباؤ، اسرائیل اور عرب شراکت داری کا کردار

دنیا بھر میں امریکی عسکری اور سفارتی مہمات کو اکثر طاقت کا مظاہرہ سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ اور کم پُراثر ہے، یکم اکتوبر 2025 کے وفاقی شٹ ڈاؤن نے واضح کر دیا کہ واشنگٹن کو نہ صرف دفاعی تیاری میں خامیاں درپیش ہیں بلکہ اقتصادی دباؤ بھی اسے اندر سے کھا رہا ہے، اب ایک نمایاں رجحان یہ ہے کہ امریکا اپنی داخلی کمزوریوں کا علاج بیرونی شراکت داری اور پیسہ کی جگہ بدل کر کرنا چاہتا ہے، اور یہ راستہ اسرائیل اور خلیجی حکمرانوں کے ساتھ قریبی تعلقات کو مضبوط کر کے نکالا جا رہا ہے.

سب سے پہلے دفاعی صلاحیت اور روزمرہ فوجی آپریشنز کے درمیان فرق واضح ہے، کانگریسی اور تحقیقی رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکی دفاعی صنعتی بیس اور مرمت، لاجسٹک چینز میں خامیاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکہ بڑی جنگ کے لیے پوری طرح تیار دکھائی نہیں دیتا، شٹ ڈاؤن نے اس کمزوری کو سیاسی اور عملی دونوں طور پر نمایاں کیا، بعض اہم وفاقی ادارے، خاص کر سائبر دفاع اور انفراسٹرکچر ایجنسیاں، محدود یا معطل خدمات کا سامنا کر چکے ہیں، جو قومی سکیورٹی کے نقطہ نظر سے خطرناک ہے، اسی طرف امریکی خارجہ پالیسی نے اپنا رخ موڑا ہے، دفاعی مقابلہ برقرار رکھنے کے چیلنجز کے باوجود واشنگٹن کی فوری ترجیح اب مالی استحکام نظر آتی ہے.

اس سمت میں ایک واضح حکمتِ عملی یہ رہی ہے کہ خلیجی ریاستوں اور بعض عرب حکمرانوں کو امریکی معیشت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے، اس سے نہ صرف امریکی بازاروں میں نقدی آئے گی بلکہ بین الاقوامی تاثرات میں بھی استحکام سامنے آئے گا، حالیہ برسوں میں خلیج میں ہونے والی ٹورز اور بڑے سرمایہ کاری معاہدے اسی تصویر کا حصہ ہیں، جن کے ذریعے واشنگٹن نے اربوں ڈالر کے وعدوں کو ایک سیاسی و اقتصادی حفاظتی جال میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے.

اسی لڑی میں اسرائیل کا کردار بھی اہم ہے، طویل مدتی امریکی امداد، اسلحہ فراہمی اور سیاسی دفاع نے اسرائیل کو واشنگٹن کے لیے خطے میں ایک کلیدی شراکت دار بنا دیا ہے، اور موجودہ دور میں امریکا اس تعلق کو یہ دکھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے کہ وہ خطے میں استحکام لانے کے قابل ہے، جو بیرونی سرمایہ کاری اور سیاسی حمایت کو فعال رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، یعنی ایک طرح سے واشنگٹن اپنی خارجی شراکت داریوں کو اندرونی اقتصادی سگنلز کو بہتر کرنے کے لیے بروئے کار لا رہا ہے، یہاں اہم فرق واضح کرنا ضروری ہے، میں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ خلیجی سرمایہ کاری یا اسرائیل کے ساتھ تعلقات صرف اور براہِ راست امریکا کے شٹ ڈاؤن کا علاج ہیں، مگر دستاویزی ثبوت اور سفارتی حرکاتِ محرک اِشارہ کرتی ہیں کہ واشنگٹن نے ماضیِ قریب میں سرمایہ کاری معاہدوں، سیکیورٹی گارنٹیز اور سیاسی ڈھال کے طور پر، ان شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو ایک آئینی و اقتصادی بفر کے طور پر ترتیب دیا ہے، خاص طور پر جب اندرونی پارلیمانی تنازعے نے بجٹ کو معطل کر رکھا ہو.

نتیجہ یہ ہے کہ امریکا بظاہر فوری جنگی صلاحیت برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر عملی طور پر وہ داخلی سیاسی و اقتصادی دباؤ کو پچھلے دروازے سے نمی کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بیرونی سرمایہ کاری، خطے میں سیکیورٹی شراکتیں، اور اسرائیل کے ساتھ مستحکم رابطے، یہ طریقہ وقتی طور پر وفاقی شٹ ڈاؤن کے اثرات کم کر سکتا ہے، مگر یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں، بغیر معیشتی ازسرِنو تنظیم، دفاعی صنعت کی مضبوطی اور داخلی سیاسی ہم آہنگی کے، امریکا کی عالمی پوزیشن کمزور پڑ سکتی ہے، عوامی اور پالیسی ساز حلقوں کے لیے دو واضح پیغامات ہیں، پہلا، بیرونی شراکتیں وقتی سہارا ہیں، ایمرجنسی میں کام آتی ہیں مگر ساختی کمزوریوں کا علاج نہیں ہوتیں، دوسرا، اگر واشنگٹن واقعی طویل المدتی عالمی رولی برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی معیشت، دفاعی صنعت اور داخلی سیاسی اتفاق رائے کی جانب متواتر اور شفاف توجہ دینی ہوگی، نہ کہ محض بیرونی سرمایہ کاری یا علاقائی معاہدوں پر انحصار کرنا

Author

اپنا تبصرہ لکھیں