امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیشنل انٹیلی جنس چیف جے کلیٹن کو مصنوعی ذہانت سے متعلق وائٹ ہاؤس کی نئی ٹاسک فورس کا سربراہ مقرر کرنے کی تصدیق کر دی ہے، جو امریکہ میں اے آئی کے شعبے سے متعلق وفاقی کوششوں کی نگرانی اور رابطہ کاری کرے گی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ جے کلیٹن نئی ’سپر انٹیلی جنس فورس‘ کی قیادت کریں گے۔ ٹرمپ مصنوعی ذہانت کے لیے ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق نئی ٹاسک فورس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی میں دنیا کی قیادت جاری رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ فورس کو امریکی شہریوں کے مفادات کے تحفظ اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
جے کلیٹن اس غیر رسمی طور پر ’اے آئی زار‘ کہلانے والے عہدے پر فائز ہونے والے دوسرے شخص ہوں گے۔ اس سے قبل وینچر کیپیٹلسٹ ڈیوڈ سیکس صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز میں یہ ذمہ داری سنبھال چکے ہیں، تاہم بعد میں وہ اس عہدے سے الگ ہو گئے تھے۔ ڈیوڈ سیکس اور این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ اب بھی صدر ٹرمپ کو مصنوعی ذہانت کے معاملات پر مشورے دیتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے لیے ایک ایسی فورس قائم کریں گے جس کا ماڈل ان کی پہلی مدتِ صدارت میں قائم کی گئی امریکی اسپیس فورس سے ملتا جلتا ہوگا۔ اس فورس کے سربراہ کو وفاقی سطح پر اے آئی سے متعلق اقدامات میں رابطہ کاری کی ذمہ داری دی جائے گی۔
جے کلیٹن طویل عرصے تک وال اسٹریٹ کے وکیل رہے ہیں۔ انہوں نے 2008 کے مالی بحران کے دوران گولڈمین سیکس کی نمائندگی کی، جبکہ لیہمن برادرز کے اثاثوں کی خریداری میں بارکلیز کے لیے بھی کام کیا۔
ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں جے کلیٹن امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین بھی رہے۔ دوسری مدتِ صدارت کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے انہیں مین ہٹن میں وفاقی پراسیکیوٹرز کی قیادت کے لیے منتخب کیا تھا، جبکہ رواں سال جولائی میں امریکی سینیٹ نے ان کی بطور انٹیلی جنس چیف تقرری کی منظوری دی۔
اے ایف پی کے مطابق جے کلیٹن کا ٹیکنالوجی کی صنعت میں کوئی پیشہ ورانہ پس منظر نہیں ہے۔ ان کی نئی ذمہ داری ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت کے محققین اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ مصنوعی ذہانت پر سخت ضابطوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار کم ہونے سے چینی کمپنیوں کو برتری حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں۔
رواں ہفتے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے خود نگرانی کے ایک عزم پر دستخط کیے، جسے صدر ٹرمپ نے ’اخلاقی طور پر پابند‘ قرار دیا۔
امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں اور قانون سازوں پر اس کی ترقی کو محدود یا سست کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً ان خدشات کے باعث کہ اے آئی ملازمتوں کو متاثر اور معاشرتی نظام میں بڑی تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے۔
جے کلیٹن نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں کہا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ نئی ٹاسک فورس مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکہ کی برتری یقینی بنائے، خصوصاً چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسابقت کے تناظر میں۔
کلیٹن کے مطابق اے آئی کی دوڑ میں پہلے مقام پر نہ رہنے کے خطرات زیادہ ہیں، جبکہ ان کے بقول اس شعبے میں برتری امریکہ کو موجودہ اور مستقبل کے ممکنہ خطرات سے بہتر طور پر نمٹنے میں مدد دے گی۔