امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی کو ہوا دے دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ چینی مصنوعات پر 100 فیصد تک نیا ٹیکس لگانے پر غور کر رہے ہیں۔
ان کے اس بیان نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ یہ فیصلہ عالمی تجارت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب واشنگٹن میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں، یعنی آئی ایم ایف (IMF) اور ورلڈ بینک کی اہم سالانہ میٹنگز ہو رہی ہیں۔
ان اجلاسوں میں دنیا بھر کے معاشی ماہرین، وزرائے خزانہ اور بینکوں کے سربراہان عالمی معیشت کی سمت پر گفتگو کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے تازہ اعلان نے ان اجلاسوں کا مرکز بننے والے موضوعات کو بدل کر رکھ دیا ہے، کیونکہ اب زیادہ تر گفتگو امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مرکوز ہو گئی ہے۔
چین کی حکومت نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ سنجیدگی سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن اگر دباؤ ڈالا گیا تو چین بھی مناسب ردعمل دے گا۔ بیجنگ کے مطابق، امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ تجارتی جنگ کسی کے حق میں نہیں ہوتی۔
دوسری جانب امریکی حکام نے کہا ہے کہ ابھی کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ امریکی خزانے کے سیکرٹری سکاٹ بیسِنٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور ممکن ہے کہ آئندہ دنوں میں فریقین کسی درمیانی راستے پر متفق ہو جائیں۔