امریکہ کی افغانستان میں بگرام ائربیس واپسی کی خواہش ایک معمولی خبر نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے نئی کشیدگیوں کی علامت ہے، کابل کے شمال میں واقع یہ فوجی اڈہ 2001 سے 2021 تک امریکی جنگی حکمتِ عملی کا مرکز رہا، اب جب واشنگٹن دوبارہ اس پر نظریں گاڑ رہا ہے تو صرف طالبان اور دہشت گرد گروہوں پر کنٹرول نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو روکنے کا ہدف بھی سامنے آتا ہے، یہ اڈہ وسطی ایشیا، چین، ایران اور پاکستان کے قریب ہونے کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے،حالیہ چند واقعات اس پس منظر کو اور واضح کرتے ہیں، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے نے خطے میں ایک نیا موڑ پیدا کیا ہے۔
قطر پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد امریکا کی کھلی اسرائیل نوازی نے مسلم دنیا میں اس کی ساکھ مزید مشکوک کر دی ہے، واشنگٹن ایک طرف انسانی حقوق اور قانون کی بات کرتا ہے، دوسری طرف اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں خاموش یا حمایتی رہ کر دوہرا معیار اپناتا ہے، یہ رویہ مسلم ممالک کے اندر اس کے خلاف غصہ اور بے اعتمادی کو بڑھا رہا ہے،مزید اہم پہلو یہ ہے کہ امریکا برسوں سے عرب حکمرانوں کو ’’سکیورٹی کے نام‘‘ پر ایک طرح کی مالی اور عسکری بلیک میلنگ میں رکھتا آیا ہے، سعودی عرب، پاکستان دفاعی تعاون اس بلیک میلنگ سے نکلنے کا اشارہ ہے، اسی لئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیگرام ائربیس کی واپسی کی خواہش محض افغانستان کے لیے نہیں بلکہ اس بڑے کھیل کا حصہ ہو سکتی ہے جس میں واشنگٹن چاہتا ہے کہ عرب حکمران مکمل طور پر اس کے جال سے نہ نکل سکیں اور پاکستان پر بھی ان کا انحصار محدود ہو جائے۔
بیگرام کے ذریعے امریکا ایک ساتھ چین پر دباؤ بڑھا سکتا ہے اور سعودی عرب، پاکستان تعاون کو غیر مؤثر کرنے کی راہیں تلاش کر سکتا ہے،پاکستان کے لیے خطرہ یہ ہے کہ بگرام اڈہ اگر چین کو محدود کرنے یا مسلم ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال ہوا تو اسلام آباد کو اپنے سب سے بڑے شراکت دار چین اور واشنگٹن کے درمیان نازک توازن قائم کرنے میں شدید مشکلات آئیں گی، سرحدی علاقوں میں دہشت گردی، پراکسی جنگ اور مہاجرین کے بہاؤ کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے، ایران اور چین اس امریکی موجودگی کو براہِ راست چیلنج سمجھیں گے، روس وسطی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کے لیے خطرہ محسوس کرے گا، اور بھارت سمیت وسطی ایشیائی ریاستیں اس نئی کشیدگی میں تذبذب کا شکار رہیں گی،امریکا کے لیے یہ اڈہ اسرائیل کے تحفظ کے زاویے سے بھی اہم ہے، واشنگٹن چاہتا ہے کہ اسرائیل کے لیے عسکری خطرات امریکا کے لیے مالی خطرہ نہ بنیں، یعنی اسرائیلی سکیورٹی کے نام پر مسلسل فنڈنگ، لاجسٹکس اور براہِ راست شمولیت کم ہو، اور یہ بوجھ خطے کے دوسرے ممالک یا پراکسی انتظامات کے ذریعے سنبھالا جائے، بیگرام ائربیس اس حکمتِ عملی کے لیے ایک موزوں پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
سب سے بڑا سوال افغان خودمختاری کا ہے، طالبان کسی بھی بیرونی فوجی واپسی کو قبول نہیں کر رہے، اگر امریکا دباؤ بڑھاتا ہے تو افغانستان ایک بار پھر میدانِ جنگ بن سکتا ہے اور اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل جائیں گے، نتیجتاً دہشت گردی، عسکری تصادم اور معاشی دباؤ کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے،بگرام کی واپسی دراصل ایک جیوپولیٹیکل جوا ہے، سعودی عرب، پاکستان دفاعی معاہدہ، قطر پر اسرائیلی حملہ، امریکا کی اسرائیل نوازی اور عرب حکمرانوں پر پرانی بلیک میلنگ کے تناظر میں یہ اڈہ واشنگٹن کے نئے عزائم کو ظاہر کرتا ہے، اگر یہ رویہ جاری رہا تو خطہ صرف عدم استحکام کا نہیں بلکہ نئے اتحادوں اور محاذ آرائیوں کا بھی گواہ بنے گا، بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی اور دوہرے معیار کسی حادثاتی یا محدود عسکری تصادم کا سبب بن سکتے ہیں جو پھر وسیع پیمانے پر تنازعے کو جنم دے سکتا ہے، اگر خطے کی قیادت نے کثیرالجہتی سفارت کاری، باہمی اعتماد اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات نہ کیے تو یہی تنازعات بتدریج ایک بڑے تصادم کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، چاہے وہ سرد جنگ جیسی ہو یا کسی نئے بلاک کی شکل میں۔