میدانِ ادب میں شخصی خاکوں کو مسلّمہ حیثیت حاصل ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ بڑے لوگوں کے اُن پہلوؤں سے آشنائی حاصل کرے جو عام طور پر عام قاری کی نگاہ سے اوجھل رہتے ہیں۔ کسی کا خاکہ لکھنے والے کی الگ سےاپنی معلومات ہوتی ہیں، اس کے علاوہ بھی ہر کسی کا زاویہ نگاہ اور اسلوب دوسروں سے مختلف ہوتا ہے، طرزِ بیاں بھی اپنا ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے تحریر دلچسپی کا موجب بن جاتی ہے۔ کتاب بینی کے لئے سب سے اہم چیز تحریر میں ایسی کشش ہے جو قاری کو اِدھر اُدھر نہیں ہونے دیتی۔ “دیکھا جنہیں پلٹ کے” میں قاری کے لئے سب سے پہلی کشش اس کا سرِ ورق ہے، جس پر چودہ لوگوں کی تصاویر آویزاں ہیں۔ انسان ان میں سے بہت سے لوگوں کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ کچھ سے وہ محبت کرتا ہے تو کچھ سے اُس کے جذبات مخاصمت کے ہیں، تاہم اُن سب کے بارے میں معلومات چاہتا ہے۔ کسی بھی خاکے کا مطالعہ شروع کریں تو اُس کو ادھورا چھوڑنا محال ہو جاتا ہے۔ ہر خاکے کاایسے دلچسپ پیرائے میں آغاز کیا گیا ہے کہ انسان پڑھے بغیر رہ نہیں سکتا۔ شخصیت کا اہم یا غیر اہم ہونا الگ کہانی ہے، ورنہ تحریر کا جادو ایسا ہے کہ وہ سر چڑھ کر بولتا ہے۔
ایک دو خاکوں میں خاکہ نگار کی پسند ناپسند کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے، ورنہ مجموعی طور پر تمام خاکوں میں ہر شخصیت کا مثبت پہلو ہی نمایاں نظر آتا ہے۔ کئی خاکہ نگار اپنی متعلقہ شخصیت سے اپنی بے تکلفی کی بنیاد پر اُس کی “خاک ” اُڑانے تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ مگر زیرِ نظرکتاب میں شخصیات کے احترام کو اوّلیت دی گئی ہے، بہت سے مقامات پر تو عقیدت بھی واضح طور پر نظر آتی ہے، لیکن اِس سے قاری کی طبیعت بوجھل نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر فاروق عادل نے شخصیات کے ناموں کو خاکوں کا عنوان نہیں بنایا، بلکہ تمام خاکوں کو نہایت ہی مثبت نام دیئے ہیں، جیسے فیض رساں، راست باز، درد مند، بلند حوصلہ، صاحبِ دل، درویش، راضی بہ رضا، بڑا آدمی، صاحبِ کشف غرض کس کس خاکے کا عنوان دیکھیں، ایک سے بڑھ کر ایک کو محبت سے یاد کیا گیا ہے۔ البتہ “بدزبان محبوب ” اور “کہانی ایک حسینہ کی” میں ظاہر ہے حالات ایسے تھے کہ محبت کا کوئی پہلو نکل نہیں سکتا تھا، ایک طرف ذکر تھا بال ٹھاکرے کا اور دوسری داستان تھی شیخ حسینہ واجد کی۔ دونوں کی زبانیں زہر اگلتی تھیں، ایک کی مسلمانوں کے خلاف اور دوسری کی پاکستان کے خلاف۔
ڈاکٹر فاروق عادل نے تمام شخصیات کو سات حصّوں میں تقسیم کیا ہے۔ اِ ن شخصیات میں ہمہ قسم کے لوگ شامل ہیں، اکثریت سیاستدانوں کی ہے۔ جن میں کچھ ایسے بھی ہیں جن سے خاکہ نگار کی ملاقات نہیں ہو سکی، تاہم جن کے ذریعے سے وہ کچھ واقعات تک پہنچے ،اُن صاحب کا نام انہوں نے ضرور لکھا۔ اُن کا اندازِ بیاں اس قدر دلچسپ اور جاندار ہے کہ قاری مزے لے لے کر پڑھتا ہے، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بعض اوقات کسی تحریر سے جی نہیں بھرتا اور اُسے دوبارہ پڑھنے کی نوبت آجاتی ہے۔ پہلا ہی خاکہ مولانا سید ابولاعلیٰ مودودیؒ کے بارے میں ہے، بس پڑھیئے اور پڑھتے جائیے۔ پُر اثر اور عقیدت و محبت میں گندھے ہوئے تاثرات و واقعات پڑھ کر انسان حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ نواب زادہ لیاقت علی خان اور سردار عبدالرب نشتر کی زندگی کے خفیہ اور روشن پہلو اجاگر کئے ہیں۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری کی زندگیوں کے منور گوشوں کو بیان کیا ہے۔ سردار شیر باز مزاری کی اصول پسندی، سید منور حسن کی طنز اور درویشی، نسیم ولی خان کی جرات و ہمت، جاوید ہاشمی کی جذباتی طبیعت، حافظ سلمان بن کا فلمی کردار ، مولانا امین احسن اصلاحی کے جماعت اسلامی میں آنے اور جانے کی کہانی، پروفیسر خورشید احمد کی علمیت، شورش کاشمیری، مجیب الرحمٰن شامی، سعود ساحر ، شریف برادران کی والدہ (ماں) اور اپنے والد صاحب (ابّا جی) سمیت سڑسٹھ شخصیات کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر نہایت پُر اثر انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
تمام خاکوں کے عنوان تو ڈاکٹر فاروق عادل نے اُن کی طبیعت کے مطابق ہی لکھے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے تمام لوگوں کو ساتھ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ “سابقون الاوّلون “میں سید مودودی، لیاقت علی خان اور عبدالرب نشتر شامل ہیں۔ “جن کے ہنگاموں سے تھے آباد ویرانے کبھی” کے زیرِ عنوان سابق وزرائے اعظم، صدور، اور دیگر اہم سیاستدان شامل ہیں۔ “اہلِ نظر ” میں مذہبی سکالر اور دانشور ہیں۔ “اہلِ جنوں ” میں جیّد صحافیوں کا تذکرہ ہے۔ “غم خوار” میں اساتذہ کا ذکر ہے۔ “میں جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لئے ” میں شاعر، ادیب ، گلوکار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات موجود ہیں۔ اور “دفترِ ہستی میں تھی زرّیں ورق تیری حیات” میں میاں برادران کی والدہ اور خاکہ نگار کے اپنے والدِ محترم شامل ہیں۔
پاکستان میں صحافی برادری میں کتاب لکھنے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، ان میں سے بھی زیادہ تر اپنے کالم وغیرہ مرتب کرکے “مصنّف” کہلائے۔ کوئی زمانہ تھا جب اخباروں میں شائع ہونے والی نمائندوں کی ڈائریاں ادبی چاشنی سے لبریز ہوتی تھیں، حتّٰی کہ خبروں میں بھی ادب کی جھلک پائی جاتی تھی، اب صحافت اور ادب مکمل طور پر راستے جدا کر چکے ہیں۔ مگر ڈاکٹر فاروق عادل نے اپنے شخصی خاکوں کو ادب کے شاہ پارے ثابت کر دیا ہے۔ اِن شخصی خاکوں میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اِن میں سے بہت سی شخصیات کا تعلق براہِ راست جماعت اسلامی سے ہے، یا بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں، جن کا ماضی جماعت اسلامی سے جُڑا ہے، مگر بعد میں وہ دوسری جماعتوں کی طرف نکل گئے۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ کردار کے حوالے سے اُن کی شخصیات میں بھی مستقل نکھار پیدا ہو گیا۔ کتاب میں دو لغزشیں اہم ہیں، یقیناً آنے والے ایڈیشن میں انہیں دور کر لیا جائے گا۔ اوّل یہ کہ چوہدری شجاعت حسین کتاب کے سرِ ورق پر ہیں مگر اندر موجود نہیں ہیں، دوم یہ کہ صفحہ نمبر 260 پر فہرست میں سعود ساحر کا نام نہیں ہے، جبکہ اُن کا خاکہ موجود ہے۔ انتساب ڈاکٹر فاروق عادل نے یوں لکھا ہے ؛ “صنّاعِ حقیقی نے جس کی قسم کھائی اور جس کے بغیر لوح محفوظ کے نوشتے مکمل نہ ہوتے، اُسی قلم کے نام “۔ مثبت سوچ اور زاویہ نگاہ کے ساتھ محبت و احترام کی روشنائی سے لکھی یہ شاہکار کتاب پڑھنے اور اپنی لائبریر ی میں رکھی جانے کے قابل ہے