یونیورسٹیوں میں داخلوں کا بحران: اسباب اور حل

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ہماری پبلک یونیورسٹیوں کے مختلف پروگرامز میں داخلوں میں 20 سے 30 فیصد کمی ریکارڈ کی کی گئی ہے۔کچھ سال قبل ایم فل پی ایچ ڈی کے لیے ہر شعبے میں سیکڑوں طلبہ امیدوار ہوتے تھے، اب ان پروگرامز کا بھی یہ حال ہے کہ کئی شعبہ جات میں ایم فل پی ایچ ڈی کے لیے ایک بھی طالب علم داخل نہیں ہوا۔اس بحران کے اسباب و وجوہ کیا ہیں اور حل کیا ؟ اس حوالے سے متعدد پہلو زیر بحث آ سکتے ہیں، یہاں ہم ان میں سے چند نمایاں پہلوؤں کا اختصار کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں:

وجوہ واسباب
1۔ داخلوں میں کمی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ انٹر میڈیٹ کے بعد یونی ورسٹی میں ایک طویل اور تھکا دینے والا تعلیمی سفر درپیش ہوتا ہے۔چار ، چھے ، نو بلکہ بعض اوقات پی ایچ ڈی کی تکمیل میں دس بارہ سال یا اس سے بھی زیادہ کا عرصہ لگ جاتا ہے ، لیکن اس طویل سفر کے بعد بھی فارغ التحصیل لوگوں کو اکثر جاب نہیں ملتی۔ اتنا وقت اور پیسہ لگانے کے بعد بھی بیروزگار لوگوں کی مثالیں جب نئے آنے والے نوجوان اور ان کے والدین سامنے دیکھتے ہیں، تو وہ اس میں اتنا پیسہ اور وقت لگانے میں دل چسپی نہیں لیتے۔

2۔ وطنِ عزیز میں مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے۔ فیسوں ، کرایوں اور ہوسٹلز وغیرہ کے اخراجات عام لوگوں کے لیے ناقابل برداشت ہو گئے ہیں۔ہماری پبلک سیکٹر یونی ورسٹیوں میں اکثر عام طبقے کے لوگ آتے ہیں، اگرچہ ان میں اخراجات بھی پرائیویٹ یونی ورسٹیوں سے کم ہوتے ہیں ، لیکن عام لوگ یہ بھی پورا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، لہذا ایسے والدین کے بچے انٹر میڈیٹ کے بعد فیکٹریوں وغیرہ میں تھوڑی سی تنخواہ پر جاب کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

3۔ بہت سے طلبہ انٹرمیڈیٹ کے بعد بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جن کے والدین افورڈ کر سکتے ہیں ان میں سے تو بہت ہی کم لوگ پاکستانی یونی ورسٹیوں میں داخلہ لینا چاہتے ہیں، اور جو افورڈ نہیں کر سکتے ، ان میں سے بھی بہت سے لوگ قرضے وغیرہ اٹھا کر بھی بچوں کو باہر بھیجنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کوشش کے پیچھے یہی خواہش کارفرما ہوتی ہے کہ وہاں جا کر بچے اپنے اخراجات وہیں سے کما کر پورے کر لیں گے۔ اور سچ یہ ہے کہ یہ خواہش بھی کم لوگوں میں ہوتی ہے کہ بچے وہاں جاب کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی جاری رکھیں، ورنہ اکثر تو ان کو بھیجتے ہی جاب کے لیے ہیں، پڑھائی محض ویزے وغیرہ کا بہانہ ہوتی ہے۔ اور حقیقت بھی ہے کہ جب والدین ملک میں بنیادی ضرورتوں کو بھی ترس رہے ہوں گے، تو پڑھائی کی لگژری کی طرف کون متوجہ ہوگا!۔۔۔بقو ل شاعر ۔۔۔ٹِد نہ پیاں روٹیاں تے سبے گلاں کھوٹیاں۔

4۔ کمپیوٹر سائنس، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ اور مصنوعی ذیانت وغیرہ کے شعبوں میں داخلوں کا رجحان روایتی سائنسز ، انجینیرنگ اور سوشل سائنسز کی نسبت بہتر ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ سوشل سائنسز، ہیومینیٹیز اور لنگویجز تو ایک طرف فزکس کمسٹری انجینئرنگ وغیرہ کو بھی جاب اورینٹڈ سبجیکٹس کے طور نہیں لے رہے۔ وہ سمجھتے ہیں ان میں بی ایس ایم ایس حتی کہ پی ایچ ڈی کرکے بھی کیا کریں گے!، سوائے اس کے کہ کسی سکول ، کالج یا قسمت نے بہت یاوری کی تو یونی ورسٹی میں ٹیچر لگ جائیں گے، اور پھر ٹیچرز کی تنخواہوں اور معیار ِزندگی کا عالم بھی سب کے سامنے ہوتا ہے۔آج کل تنخواہوں کے ساتھ ساتھ پنشن کے حوالے سے ٹیچر کمیونٹی جس بحران سے دوچار ہے، اس نے لوگوں کو اس جاب سے مزید بددل کردیا ہے۔ پبلک سیکٹر یونی ورسٹیوں میں اکثر اساتذہ وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر پڑھاتے ہیں ، ان ایم فل پی ایچ ڈی اساتذہ کاو پورے سمسٹر یعنی کوئی چھے ماہ کے انتظار کے بعد دو تین لاکھ کا بل بنتا ہے، اور ان میں سے بہت سے اساتذہ دس دس بارہ بارہ سال سے اسی طرح وزٹنگ پر پڑھا رہے ہیں۔ نئے آنے والے نوجوان جب ایم فل پی ایچ ڈی اساتذہ کا یہ حشر دیکھتے ہیں تو ٹیچر بننے کا سوچنا بھی ان کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔

حل کے لیے تجاویز
1۔ طلبہ اور والدین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے یونی ورسٹیز کو شارٹ کورسز کی طرف توجہ دینی چاہیے، مہنگائی، بیروزگاری اور وسائل کی کمی کے شکار عوام کو ایسی پڑھائی چاہیے جس میں وقت تھوڑا لگے اور روزگار کے موقع زیادہ اور جلدی پیدا ہوں۔

2۔ حکومت اور نجی اداوں کو آگے آنا چاہیے اور تعلیم کے لیے طلبہ اور یونی ورسٹیوں سے تعاون کرنا چاہیے۔ پبلک سیکٹر یونی ورسٹیاں اگرچہ خود مالی بحران کا شکار ہیں، تاہم انھیں بھی اس سلسلے میں کوششیں کرنی پڑیں گی ،یونی ورسٹیوں کو فیس سبسڈی اور اس کے ساتھ ساتھ اسکالرشپ میں اضافہ کرنا ہوگا۔یونی ورسٹیوں کے مالی بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے علم و تعلیم سے محبت رکھنے والے اہلِ خیر و ثروت اور حکومت کو اس اس سلسلے میں بہر حال خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

3۔ باہر جانے کی بجائے ملک میں رہ کر کام کرنے کے لیے یونی ورسٹی طلبہ کے لیے یونی ورسٹیوں میں تعلیم کے دوران ایسے مواقع ہونے چاہییں کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ جاب بھی کر سکیں، جس سے ان کے اپنے تعلیمی اخراجات بھی پورےہوں اور وہ اپنےکم وسیلہ والدین کو بھی سپورٹ کر سکیں۔ بیرونِ ملک ایسا کرنے کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں ، اس لیے لوگ باہر بھاگتے ہیں، اس اشو کو یہاں ایڈریس کیا جاسکے تو اس برین ڈرین کو روکنے میں کافی مدد فراہم ہو سکتی ہے۔

4۔ طلبہ کو یونی ورسٹیوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے یونی ورسٹیوں کو مارکیٹ بیسڈ مضامین ، انڈسٹری-اکیڈیمیا پارٹنرشپ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یونی ورسٹیوں اور صنعتوں کے اشتراک سے طلبہ کو انٹرنشپ اور عملی منصوبوں کے مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔
5۔ لوگوں کا وقت بچانے اور تعلیم کے ساتھ کام اور جاب کی سہولت کے لیے آن لائن اور ہائبرڈ نظام تعلیم پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پوری دنیا اس طرف توجہ دے رہی ہے، ہمارے یہاں بد قسمتی سے اس پہلو پر بہت کم توجہ ہے۔ یونی ورسٹیاں اگر فاصلاتی اور ڈیجیٹل نظام تعلیم کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں تو ان کی انرولمنٹ بھی اضافہ ہوگا اور عام لوگوں کے لیے اعلیٰ تعلم کے موقع بھی بڑھیں گے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں