اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سفیروں کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش سے نیویارک میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد اسلاموفوبیا کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 78/264 پر عملدرآمد کا جائزہ لینا تھا۔
یہ قرارداد 15 مارچ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کی تھی، جس میں رکن ممالک سے مذہبی عدم برداشت، مسلمانوں کے خلاف نفرت، اور تشدد کے خاتمے کے لیے پالیسی اقدامات اور قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
او آئی سی کے سفیروں نے سیکرٹری جنرل سے درخواست کی کہ اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی ایلچی مقرر کیا جائے۔ اس ایلچی کا کام دنیا بھر میں مسلم مخالف جذبات اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کو مربوط کرنا ہوگا۔
ملاقات کے دوران او آئی سی کے سفیروں نے اسلاموفوبیا کی روک تھام کے لیے ایک جامع ایکشن پلان کی تجاویز بھی پیش کیں، جس میں قرارداد کے تحت بروقت عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
او آئی سی کے نمائندوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا نہ صرف مسلمانوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ عالمی امن اور ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جذبات کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
یہ ملاقات اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنے اور اس کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔