ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں الٹرا پروسیسڈ فوڈ کے بڑھتے ہوئے استعمال سے صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام میں اس کے استعمال کو کم کرنے کے لیے حکومتوں کو مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
عالمی تحقیق کے مطابق کھانے کے طریقے میں تبدیلی آئی ہے اور تازہ خوراک کی بجائے سستے اور انتہائی پروسیسڈ کھانوں کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ اس سے موٹاپے، ڈپریشن اور مختلف دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
معروف طبی جریدے سی لانیسٹ میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ حکومتیں عوام کو الٹرا پروسیسڈ فوڈ کے استعمال کے حوالے سے انتباہ جاری کریں اور ان مصنوعات پر زیادہ ٹیکس لگائیں تاکہ غذائیت والی خوراک تک رسائی کے لیے وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
الٹرا پروسیسڈ فوڈ میں وہ اجزاء شامل ہوتے ہیں جو گھروں میں عموماً استعمال نہیں ہوتے، جیسے ایملسیفائرز، پریزرویٹوز، ایڈیٹیوز، رنگ اور مٹھاس۔ اس میں ساسجز، کرسپ، پیسٹریز، بسکٹ، انسٹنٹ سوپ، فزی ڈرنکس، آئس کریم اور سپر مارکیٹس کی تیار شدہ بریڈ شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق صنعتی طور پر تیار شدہ یہ کھانے چینی اور غیر صحت بخش چکنائی سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ان میں فائبر اور پروٹین کی مقدار کم ہوتی ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق براہِ راست یہ ثابت نہیں کرتی کہ الٹرا پروسیسڈ فوڈ صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور اس حوالے سے مزید تحقیق اور تجربات کی ضرورت ہے