وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے وینس سے خاصی سخت تنقید سننے اور کھردرے سلوک کے بعد یوکرائنی صدر زیلنسکی دلبرداشتہ ہوئے ہوں گے، مگر یورپی رہنمائوں نے ان کے لئے اپنے دل اور بازو کھول دئیے ہیں۔وائٹ ہائوس والے ناخوشگوار کے فوری بعد کئی یورپی اور مغربی حکمرانوں نے زیلنسکی سے اظہار یکجہتی کیا، جن میں فرانس کے صدر میکروں کے علاوہ کینیڈا ، آسٹریلیا، پولینڈ، برطانیہ اور کئی دیگر ممالک کے حکمران شامل ہیں۔
اب زیلنسکی لندن پہنچے ہیں تو وہاں ان کا وزیراعظم کیئر سٹارمر کی رہائش گاہ ٹین ڈائوننگ سٹریٹ کے باہر پرجوش استقبال کیا گیا۔ سینکڑوں لوگ وہاں موجود تھے جنہوں نے یوکرائن اور صدر زیلنسکی کے حق میں نعرے لگائے، پھر برطانوی وزیراعظم کئر سٹآرمر نے باہر آ کر زیلنسکی کو گلے لگا کر خیر مقدم کیا اور انہیں اندر لے گئے۔ کئیر سٹارمر نے مہمان صدر زیلنسکی کو کہا کہ آپ نے لوگوں کو نعرے لگاتے سنا ہے،آپ کو برطانیہ بھر میں مکمل حمایت حاصل ہے۔ ’ہم آپ کے ساتھ، یوکرین کے ساتھ، کھڑے ہیں، چاہے اس میں جتنا وقت لگے۔‘
صدر زیلنسکی نے جواباً کہا کہ وہ روس کیخلاف جنگ کے آغاز سے ہی اتنی بڑی حمایت کے لیے وہ برطانیہ اور برطانوی عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یوکرائنی خوش ہیں کہ ہمارے ساتھ برطانیہ جیسا قابل اعتماد سٹریٹجک پارٹنر موجود ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ اور یوکرین نے ہفتے کے روز یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کی حمایت کے لیے 2.26 بلین پاؤنڈ قرض کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔