برطانیہ میں پناہ گزینوں کا سیلاب؛ ایک انسانی المیہ یا ریاستی بحران؟

برطانیہ میں سیاسی پناہ کی بڑھتی ہوئی درخواستوں نے ایک نئے عالمی مباحثے کو جنم دیا ہے، 2020 سے 2025 تک کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کورونا کے بعد کے برسوں میں ایک غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، مارچ 2025 تک برطانیہ کو ایک لاکھ نو ہزار سے زائد افراد کی پناہ گزینی کی درخواستیں موصول ہوئیں، یہ تعداد پچھلے دو دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑتی ہے اور برطانیہ کے پالیسی سازوں کے لئے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے، اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور جنگی صورتحال لوگوں کو برطانیہ جیسے محفوظ ملک کی جانب دھکیل رہی ہے

اعداد و شمار کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ سب سے زیادہ پناہ کی درخواستیں پاکستان سے موصول ہوئیں، ایک لاکھ نو ہزار سے زائد درخواستوں میں سے دس فیصد سے زیادہ صرف پاکستانی شہریوں کی جانب سے دی گئیں، اس کے بعد افغان شہریوں کا نمبر آتا ہے، جو جنگ اور بدامنی کے نتیجے میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے، یہ اعداد نہ صرف جنوبی ایشیا کی پیچیدہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ برطانیہ میں آباد کمیونٹیز کے سماجی توازن پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں، پاکستان اور افغانستان کے بعد شام، ایران اور افریقی ممالک کے شہری بھی نمایاں تعداد میں برطانیہ کا رخ کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے کئی خطوں میں انسانی حقوق کی پامالی اور سیاسی جبر بدستور جاری ہے

بین الاقوامی سطح پر برطانیہ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، یورپی یونین کے دیگر ممالک کے مقابلے میں برطانیہ میں پناہ گزینوں کی تعداد اب ایک ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، جس نے ہوم آفس کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، ایک طرف انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ پناہ گزینوں کو تحفظ دیا جائے، دوسری طرف برطانیہ کے اندرونی سیاسی حلقے اس دباؤ کو عوامی وسائل پر بوجھ قرار دیتے ہیں، اس کشمکش نے امیگریشن پالیسی کو برطانوی سیاست کا مرکزی موضوع بنا دیا ہے، جس پر حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے بیانیے قائم کر رہی ہیں

سوال یہ ہے کہ اس بڑھتی ہوئی لہر کا مستقبل کیا ہوگا، کیا برطانیہ مزید لاکھوں افراد کو اپنی سرزمین پر آباد کرنے کی سکت رکھتا ہے، یا سخت قوانین کے ذریعے دروازے بند کر دے گا، فی الحال رجحان یہی بتا رہا ہے کہ پناہ گزینوں کا دباؤ کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے، کیونکہ دنیا کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بگڑ رہے ہیں، پاکستان اور افغانستان جیسے ممالک کی داخلی صورتحال اب بھی غیر یقینی کا شکار ہے، مشرق وسطیٰ میں تنازعات جاری ہیں اور افریقہ کے کئی ممالک بدستور خانہ جنگی اور غربت کا سامنا کر رہے ہیں

یہ صورتحال نہ صرف برطانیہ بلکہ عالمی برادری کے لئے بھی ایک لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ پناہ گزینی محض ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی انسانی بحران ہے، اگر بین الاقوامی سطح پر تنازعات کے خاتمے، غربت کے انسداد اور سیاسی استحکام کی کوششیں نہ کی گئیں تو مستقبل میں برطانیہ جیسے محفوظ ممالک پر یہ بوجھ مزید بڑھتا چلا جائے گا، یوں یہ بحران نہ صرف ایک ملک کی پالیسی بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک کڑا امتحان بن کر سامنے آئے گا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں