دنیا کے ہر دور، ہر نظام اور ہر جغرافیے میں اگر کوئی تقسیم سب سے زیادہ مستقل اور اٹل رہی ہے تو وہ دو طبقوں کی ہے،ایک وہ جو حاکم ہے، مراعات یافتہ ہے، اختیار اور وسائل کا مالک ہے اور دوسرا وہ جو محکوم ہے، پس رہا ہے، قربان ہو رہا ہے، اور خاموشی سے اس نظام کا ایندھن بن رہا ہے۔ یہ تقسیم نہ نسل کی بنیاد پر ہے، نہ زبان یا مذہب کی۔ یہ صرف مفادات اور اقتدار کی تقسیم ہے۔ یہ وہ طبقاتی حقیقت ہے جو جمہوریت سے آمریت، سرمایہ داری سے سوشلزم، اور مذہب سے سیکولرزم پھر ہر نظام میں اپنی نئی شکل میں موجود رہی ہے۔
پاکستان بھی اسی عالمی ڈھانچے کی تصویر ہے، جہاں اشرافیہ اور ان کے مفاد پرست حواریوں نے اپنی سیاسی چالوں، مذہبی فتووں، علاقائی نعرہ بازی اور طبقاتی گھیراؤ کے ذریعے عوام کو ایک تماشے میں مصروف رکھا ہے۔ اشرافیہ کے بچے بیرونِ ملک کی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں، آف شور کمپنیوں میں کاروبار کرتے ہیں، عالمی طاقتوں کے ساتھ شراکت داری میں رہتے ہیں، اور جب ملک پر کوئی بحران آتا ہے تو قربانی کا مطالبہ عام آدمی سے کیا جاتا ہے۔ “قوم کے مفاد” کے نام پر جنگوں میں لڑنے والا فوجی عام آدمی کا بیٹا ہوتا ہے، خودکش حملے میں مرنے والا راہ گیر بھی عام آدمی ہوتا ہے، اور مہنگائی کے بوجھ تلے سسکنے والا بھی وہی۔ دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کا نہ کوئی مسلک ہوتا ہے، نہ برادری، نہ علاقہ، نہ ہی وفاداری۔ ان کا واحد رشتہ مفاد ہے، اور وہ مفاد انہیں کبھی کسی غیر ملکی سفارت خانے سے جوڑ دیتا ہے، کبھی کسی کارپوریٹ طاقت سے، اور کبھی کسی کرپٹ بیوروکریسی سے۔
عوام کا استحصال کئی شکلوں میں ہوتا ہے۔ ایک صورت انتخابات میں ہے، جہاں انہیں قوم، برادری، زبان یا عقیدے کے نام پر دھوکہ دیا جاتا ہے، اور پھر جیتنے والے پانچ سال تک کسی عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے کشکول لے کر کھڑے رہتے ہیں۔ ایک صورت میڈیا ہے، جہاں عوام کو اصل مسائل سے دور رکھا جاتا ہے اور ان کے ذہن جعلی ہیروز، فضول بیانیوں، اور مصنوعی جذباتیت میں الجھا دیے جاتے ہیں۔ ایک اور صورت خیرات اور امداد کی سیاست ہے، جس میں غربت کو ختم کرنے کے بجائے اسے برقرار رکھا جاتا ہے تاکہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جا سکے۔ اور سب سے اہم صورت قانون کے غیر مساوی اطلاق کی ہے، جہاں اشرافیہ کے لیے معافی، رعایت، این آر او اور گارنٹی ہوتی ہے، جبکہ عام آدمی چھوٹے جرم پر سالہا سال جیل کاٹتا ہے۔
ایسے استحصالی ماحول میں اگر کوئی جماعت بغیر کسی روایتی مفاد کے، مسلسل اصولی سیاست پر قائم رہتی ہے، تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ جماعت اسلامی نہ صرف ایک سیاسی جماعت ہے بلکہ ایک فکری تحریک ہے جس کا بنیادی اصول ہی طبقاتی تفریق کو مٹانا اور قرآن و سنت کی روشنی میں عدل کا قیام ہے۔ اس جماعت نے کبھی electables کو پارٹی میں نہیں لایا، کبھی سرمایہ داروں، جاگیرداروں یا بیوروکریٹک نوکرشاہی سے سودے بازی نہیں کی، بلکہ ہمیشہ عام کارکن، طالبعلم، عالم، استاد، اور مزدور کو نمائندگی دی۔ جماعت اسلامی کا دامن ان تمام خرابیوں سے پاک رہا ہے جن کی بنیاد پر باقی جماعتیں وجود میں آئیں یا زندہ رہیں۔جماعت اسلامی بھی انسانوں کی جماعت ہے جو انفرادی غلطیاں کرتے ہیں اور اجتماعی طور پر انسے غلط فیصلے بھی سرزد ہوتے ہیں۔ لیکن جماعت کے اندر احتساب کا نظام جب تک زندہ ہے اسے اپنے نظریہ اور پاکستان میں ایک اسلامی و فلاحی ریاست کے قیام کی علمبردار کہلانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
الخدمت فاؤنڈیشن، جو جماعت اسلامی کا فلاحی ونگ ہے، اس کا سب سے نمایاں اور غیر متنازع پہلو ہے۔ جب ملک میں زلزلے آئے، جب سیلاب نے بستیاں اجاڑ دیں، جب کورونا کی وبا میں لوگ اپنے پیاروں کو دفنانے سے بھی گھبرا رہے تھے — تب یہی الخدمت کے رضاکار تھے جو جنازے اٹھا رہے تھے، کفن دے رہے تھے، راشن پہنچا رہے تھے اور لوگوں کی مدد کر رہے تھے۔ وہ نہ کوئی جماعت کا کارڈ مانگتے تھے، نہ تصویر کھنچواتے تھے، نہ میڈیا پر چڑھنے کی خواہش رکھتے تھے۔
جماعت اسلامی نے ہر دور میں عوامی شعور کی بیداری کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔ سودی نظام کے خلاف ملک گیر مہم، اسلامی نظام تعلیم کا مطالبہ، طلبہ یونین کی بحالی کی جدوجہد، خواتین کے حقوق کی تعلیم اور بلدیاتی خودمختاری کے لیے عدالتوں تک رسائی — یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی محض ووٹ لینے کے لیے میدان میں نہیں، بلکہ قوم کی فکری و نظریاتی تربیت کے لیے مصروف عمل ہے۔
کراچی کی حالیہ بلدیاتی سیاست اس کی روشن مثال ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے ایک عام سے پس منظر کے باوجود اصول، سچائی اور عوامی خدمت کی بنیاد پر خود کو منوایا۔ نہ کسی طاقتور سے سازباز کی، نہ کسی ادارے کے در پر حاضری دی۔ ان کا بیانیہ خالصتاً مسائل پر مبنی تھا ۔پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، صفائی یہ وہ بنیادی حقوق ہیں جن سے آج کا شہری محروم ہے۔ جماعت اسلامی کو کراچی کے عوام نے بھرپور پذیرائی دی کیونکہ انہیں روایتی جماعتوں سے صرف ناامیدی ہی نہیں، بیزاری ہو چکی تھی۔
یہ وقت ہے کہ عوام اس تقسیم کو پہچانیں جو ان کے اصل دشمن کو چھپا رہی ہے۔ مسئلہ کسی مسلک، زبان یا علاقے کا نہیں — مسئلہ صرف ایک ہے: ایک طبقہ جو کھاتا ہے، اور دوسرا جو کھپتا ہے۔ جماعت اسلامی کا کردار آج بھی اسی طبقاتی جنگ میں عوام کے ساتھ کھڑے ہونے والا ہے۔ اس کے پاس دولت نہیں، اثر و رسوخ نہیں، مگر کردار اور نیت ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو قوموں کو زندہ کرتی ہے۔
اقبال نےاپنی نظم “ابلیس کی مجلس شوری”کیا خوب کہا تھا
جمہور کے اِبلیس ہیں اربابِ سیاست
باقی نہیں اب میری ضرورت تہِ افلاک
اگر عوام نے اب بھی شناخت کا معیار زبان، برادری اور نسل یا زاتی مفاد کو بنایا، تو وہ اشرافیہ کل بھی انہیں بیچتی رہے گی۔ وہ اشرافیہ جو آج بھی اُنہی ہاتھوں سے تحفے وصول کر رہی ہے جن ہاتھوں نے ملک کے وسائل لوٹے۔ لیکن اگر عوام نے جماعت اسلامی جیسے کردار کو پہچانا، اس کی پشت پناہی کی، اور اصولی سیاست کو ووٹ دیا۔ تو شاید آنے والی نسل کو وہ پاکستان مل سکے جس کا خواب اقبال اور قائد نے دیکھا تھا اور سید مودودی نے اسکی تعبیر و تعمیر کی تحریک برپا کی تھی۔