صدر ٹرمپ اور شی جن پنگ کی جنوبی کوریا میں ملاقات متوقع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان جنوبی کوریا میں ایک اہم ملاقات کی تیاری کی جا رہی ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ممکنہ ملاقات ایسے وقت میں متوقع ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔

گزشتہ ہفتوں میں چین نے اپنی نایاب معدنیات کی برآمد پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ یہ وہ معدنیات ہیں جو موبائل فون، الیکٹرک گاڑیوں اور چِپس کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔

چین کے اس فیصلے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چینی مصنوعات پر سو فیصد تک نیا ٹیکس عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس بیان نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی اور سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی فضا بڑھ گئی۔

امریکی خزانے کے سیکرٹری سکاٹ بیسِنٹ کے مطابق، دونوں ملکوں کے درمیان رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔

بیسِنٹ کا کہنا تھا کہ جنوبی کوریا میں ہونے والی ممکنہ ملاقات اس سلسلے میں ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتی ہے، جو تجارتی جنگ کو مزید بڑھنے سے روک سکتی ہے۔

دوسری جانب چین نے کہا ہے کہ اگر امریکہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم چین نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر دباؤ ڈالا گیا تو وہ بھی اپنی پالیسی کے مطابق ردعمل دینے کا حق رکھتے ہیں۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق، ان کا مقصد تصادم نہیں بلکہ استحکام ہے، لیکن وہ اپنی قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں