امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق یہ 2017 کے بعد کسی بھی امریکی صدر کا بیجنگ کا پہلا باضابطہ دورہ ہو گا۔چین کے صدر شی جن پنگ نے حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو ’اچھا‘ قرار دیا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ باہمی بات چیت ’بہترین‘ رہی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے دورے کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک پر عائد کیے گئے عالمی محصولات کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ ٹرمپ نے ان محصولات کو اپنی پالیسیوں کے حق میں دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا تھا۔
توقع ہے کہ بیجنگ میں ہونے والی ملاقاتوں میں تجارتی محصولات اور دوطرفہ تجارت سرفہرست موضوع ہوں گے۔ چین اس سے قبل امریکی تجارتی دباؤ کے جواب میں سویابین کی خریداری روکنے کا اشارہ دے چکا ہے، جو ماضی میں چین کو امریکہ کی بڑی برآمدات میں شامل تھی۔
چین حالیہ مہینوں میں کئی مغربی رہنماؤں کی میزبانی بھی کر چکا ہے، جن میں کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران نئے تجارتی معاہدوں اور چینی ساختہ برقی گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ادھر امریکہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ چین تائیوان کو اپنے ساتھ ملانے کے عزم کا اعادہ کرتا رہا ہے۔
یہ کورونا وبا کے بعد صدر ٹرمپ کا چین کا پہلا دورہ ہو گا۔ وبا کے آغاز پر انہوں نے وائرس کو ’چینی وائرس‘ قرار دیا تھا، جبکہ امریکہ میں اس وبا سے دس لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔