امریکا کی جانب سے بے دخل کیے گئے تارکین وطن کو قبول کرنے کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے کولمبیا کے خلاف مجوزہ سخت اقدامات روک دیے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کولمبیا پر ٹیرف بڑھانے کی دھمکی نے اثر دکھایا، جس کے نتیجے میں کولمبیا امریکا سے بے دخل کیے گئے تارکین وطن کو واپس لینے پر رضامند ہو گیا ہے۔
اس سے قبل کولمبیا کے صدر نے امریکا سے بے دخل کیے جانے والے شہریوں کو واپس قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک تارکین وطن کو عزت اور وقار کے ساتھ واپس نہیں بھیجا جاتا، اس وقت تک وہ ان کو لے جانے والی پروازوں کو بند رکھیں گے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے انکار کے بعد سخت تجارتی پابندیوں اور ویزہ معطلی جیسے اقدامات کی دھمکی دی تھی، جس میں 25 فیصد تجارتی ٹیرف شامل تھا۔ ان سخت اقدامات کا مسودہ بھی تیار کر لیا گیا تھا، تاہم کولمبیا کی جانب سے رضامندی کے بعد ان فیصلوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی کو اپنی ترجیح قرار دیا تھا اور اس مسئلے کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت امریکا سے تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر ملے جلے ردعمل کا سامنا ہے۔
ماہرین کے مطابق کولمبیا کی یہ رضامندی ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کی واضح مثال ہے، لیکن اس مسئلے نے امریکا اور لاطینی امریکا کے درمیان تعلقات میں مزید پیچیدگی پیدا کر دی ہے۔