ٹرمپ یا خامنہ ای، ہیگستھ یا لاریجانی؟

ٹرمپ کا خیال ہے کہ وہ اور ان کا امریکہ مہذب ، روشن خیال اور تعلیم یافتہ ہیں جب کہ ایران اور اس کی قیادت جاہل، گنوار، وحشی، جانور اور پتھر کے زمانے میں رہنے والے قدامت پسند ہیں۔ سوال مگر یہ ہے کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ مڈل ایسٹ آئی میں پیٹر اوبورن اور عرفان چودھری نے اس سوال کا جواب دیا ہےا ور حق ادا کر دیا ہے۔

ٹرمپ اور ٹرمپ کے ہاتھوں شہید ہونے والے خامنہ ای سے شروع کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ خامنہ ای فقیہ اور سکالر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ماہر لسانیات بھی تھے، جو اپنی مادری زبان فارسی کے علاوہ عربی، آذری اور ترکی زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے۔ جین آسٹن، لیو ٹالسٹائی، دانتے الیگیری، جان اسٹین بیک اور ہیریئٹ بیچر اسٹو جیسوں کو بھی پڑھ رکھا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ وکٹر ہیوگو کا ناول لیس میزریبلز اب تک کا لکھا جانے والا بہترین ناول ہے۔

اس کے برعکس ٹرمپ ایک نیم خواندہ شخصیت ہیں، ان کے بارے میں “ٹرمپ: دی آرٹ آف دی ڈیل” کے مصنف ٹونی شوارٹز کی گواہی ہے کہ ٹرمپ نے اپنی بالغ زندگی میں شاید ایک بھی کتاب نہیں پڑھی۔

ٹرمپ کے سوانح نگار مائیکل وولف نے "فائر اینڈ فیوری: انسائیڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس” میں لکھا کہ کہ اپنی پہلی مدتِ صدارت میں ان کی حیثیت ایک نیم خواندہ شخص سے زیادہ نہیں تھی۔

ڈاکٹر علی لاریجانی، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مقتول سیکرٹری، اور ان کے امریکی ہم منصب سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگستھ کے درمیان تقابل بھی بہت کچھ بیان کرتا ہے۔ ہیگستھ نے پرنسٹن جیسی معروف یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، لیکن ان کا تعلیمی ریکارڈ لاریجانی کے برابر نہیں۔

لاریجانی نے کانیٹین میتھیمیٹکس پر پی ایچ ڈی کی اور بعد ازاں کانٹ پر تین کتابیں بھی لکھیں۔ اسرائیلی صحافی گیدون لیو نے لاریجانی کے بارے میں کہا: ‘حکومت میں دہائیوں تک خدمات انجام دینے کے باوجود انہوں نے اپنی سب سے بڑی دلچسپی یعنی فلسفے کو کبھی ترک نہیں کیا۔’

صحافی گیدون لیو نے انہیں “ایک شاندار مفکر” قرار دیا جو غیر معمولی انداز میں غور و فکر کی زندگی کو عملی زندگی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اپنی تحریروں میں لاریجانی مغربی فلسفے کے اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مذہبی نظریات کا دفاع کرتے ہیں اور اکثر ایسے دلائل پیش کرتے ہیں جو واقعی غور و فکر پر مجبور کرتے ہیں۔

پیٹر اوبورن اور عرفان لکھتے ہیں کہ پیٹر ہیگست بھلے پریسٹن کے پڑھے ہوئے ہیں لیکن لاریجانی اور سابق فاکس نیوز میزبان، شرابی اور متعصب پیٹ ہیگستھ کے درمیان موازنہ کرنا ہی ایک شرمناک حرکت ہے۔

ڈاکٹر عباس عراقچی، ایران کے وزیر خارجہ، نے یونیورسٹی آف کینٹ سے سیاسی فکر میں پی ایچ ڈی کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ مغربی طرز کی لبرل جمہوریت اور اسلامی طرزِ حکمرانی کے امتزاج کا جائزہ لیتا ہے۔ فکری لحاظ سے وہ اپنے امریکی ہم منصب، سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سے کہیں بلند سطح پر کام کرتے ہیں، جو انسانی ساختہ ماحولیاتی تبدیلی کے منکر ہیں۔

یہی معاملہ وائٹ ہاؤس یا ٹرمپ کے ترجمانوں کیرولین لیوٹ، اسٹیفن ملر اور سینیٹر لنڈسے گراہم کا ہے۔ایران میں ان کے ہم منصب سید محمد مرندی ہیں۔ مرندی نے برمنگھم یونیورسٹی سے شاعر بائرن پر ڈاکٹریٹ مکمل کی اور اب تہران یونیورسٹی میں انگریزی ادب اور مستشرقیت پڑھاتے ہیں۔

شاہ ایران کو امریکہ گلریفائی کرتا ہے اور اس کے بیٹے کو ایران پر مسلط کرنا چاہتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی حمایت یافتہ شاہ کے دور میں تعلیمی معیار انتہائی کمزور تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد ان میں غیر معمولی بہتری آئی۔

اب تو اتنی بہتری آ چکی ہے کہ یونیسکو کے مطابق سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی میں خواتین گریجویٹس کی شرح امریکہ سے زیادہ ہے۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد خواتین کی اعلیٰ تعلیم میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انقلاب سے پہلے زیادہ تر ایرانی مرد و خواتین ناخواندہ تھے، جبکہ اب اکثریت پڑھنا لکھنا جانتی ہے۔

قومی مردم شماری کے مطابق 1966 میں خواتین کی شرح خواندگی صرف 17.42 فیصد اور مردوں کی 39.19 فیصد تھی۔ 1976 میں یہ شرح مردوں کے لیے 47.49 فیصد اور خواتین کے لیے 35.48 فیصد ہو گئی۔

اس کے برعکس 1986 میں، یعنی انقلاب کے بعد، خواتین کی شرح خواندگی 52.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ 1996 کی مردم شماری کے مطابق چھ سال سے زائد عمر کی 74.2 فیصد خواتین اور 74.7 فیصد مرد خواندہ تھے۔

2006 کی مردم شماری میں خواتین کی شرح خواندگی 80.3 فیصد جبکہ مردوں کی 88.7 فیصد تھی۔ 2022 میں یونیسکو کے مطابق 15 سے 24 سال کی عمر کی خواتین میں خواندگی کی شرح 99 فیصد تک پہنچ گئی۔

ایران کا معاشرہ علم سے کیسے جڑا ہوا ہے، اس کی ایک گواہی نارمن فنکل اسٹین نے دی ہے۔ انہوں نے 2014 میں ایران کی امام صادق یونیورسٹی میں پڑھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت ہی اطمینان بخش تدریسی تجربہ تھا۔ مذہبی علما واقعی بہت ذہین اور نہایت سنجیدہ تھے۔

ان کے بقول "یہ کچھ حد تک افلاطون کی ‘جمہوریہ’ جیسا منظر تھا، جیسے یہاں محافظ فلسفی حکمران موجود ہوں، اور آپ کو یہ احساس ہوتا تھا کہ یہ لوگ خیالات کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، اور ان کے ساتھ واقعی ایک اچھی گفتگو کی جا سکتی ہے۔”

فنکل اسٹین نے ایک طالب علم کے ساتھ گفتگو یاد کرتے ہوئے کہا: "میں نے پوچھا تم موبائل فون کیوں نہیں رکھتے؟ اس نے جواب دیا: موبائل فون کی کیا ضرورت ہے؟ یہ صرف اپنے اردگرد لوگوں سے بات کرنے کی سہولت دیتا ہے، جبکہ اگر کتاب پڑھیں تو براہِ راست خدا سے رابطہ ہو سکتا ہے ۔ یہ واقعی متاثر کن با ت تھی۔”

۔۔۔۔۔۔

پیٹر اوبورن اور عرفان چودھری کی یہ تحقیق اس موضوع کا صرف ابتدائیہ ہے جو ہمیں بتا رہا ہے کہ امریکی پروپیگنڈے سے آگے بھی ایک جہان ہے۔ ہماری ابلاغی اشرافیہ امریکی پروپیگنڈے کی اس حد تک اسیر ہو چکی ہے کہ ہمارا میڈیا وہی اصطلاحات ا ستعمال کرتا ہے جو امریکی اور مغربی میڈیا استعمال کرتا ہے۔ ہم ان سے باہر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

اس امریکی فکری کنویں کے باہر بھی ایک دنیا ہے ، یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ اسی کنویں کا مینڈک بن کر رہنا ہے یا کنویں کے باہر کی دنیا کو بھی دیکھنا ہے۔

جب ہم کنویں کے باہر دیکھنے کا فیصلہ کر لیں گے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ تقابل کا یہ مطالعہ بہت طویل اور دلچسپ ہے۔ پیٹر اوبورن ا ور عرفان چودھری نے تو محض دیگ کے ایک دو دانے سامنے رکھے ہیں ۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں