امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پانچ روزہ ایشیا دورے کے دوران ٹوکیو پہنچنے پر جاپانی بادشاہ ناروہیتو سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات صدر ٹرمپ کی صدارت کے دوران جاپان کے بادشاہ سے پہلی باقاعدہ ملاقات تھی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے رسمی بات چیت کے ساتھ تصاویر کے تبادلے کیے اور عالمی تعلقات، خطے کی سکیورٹی اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے جاپان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کی تعریف کی اور جاپانی قیادت کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس ملاقات کے دوران جاپانی حکام نے شہر میں سخت سیکورٹی انتظامات کیے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے جاپان میں سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع کے حوالے سے بھی جاپانی رہنماؤں سے بات چیت کی، جس میں باہمی تجارتی تعلقات اور خطے کی اقتصادی ترقی پر خاص توجہ دی گئی۔
صدر ٹرمپ کا یہ دورہ جاپان میں امریکی تعلقات کو مضبوط کرنے اور ایشیا میں چین کے ساتھ تجارتی مذاکرات سے پہلے باہمی اعتماد قائم کرنے کے اہم مواقع میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جاپان میں 550 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے ہیں، جو امپورٹ ٹیکسز میں نرمی کے بدلے کیے گئے ہیں۔ جاپانی وزیرِ اعظم ساناے ٹاکائیچی نے بھی امریکی صدر کو قائل کرنے کے لیے امریکی گاڑیاں، سویا بین اور گیس خریدنے کے وعدے کیے اور جہاز سازی میں تعاون کے معاہدے کی تیاری ظاہر کی