ٹرمپ کا ایشیا دورہ، چین سے نئے تجارتی معاہدے کی امید

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ایشیا کے دورے پر جاپان پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ چین کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ طے کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ اس ہفتے کے آغاز میں ملائیشیا میں چار جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں۔ وہ جمعرات کے روز چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کم کی جا سکے۔

امریکی حکام کے مطابق، واشنگٹن اور بیجنگ کے مذاکرات کاروں نے اتوار کو ایک ابتدائی معاہدے کا فریم ورک تیار کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ کی جانب سے زیادہ درآمدی ٹیکسوں میں نرمی اور چین کی طرف سے نایاب معدنیات کی برآمد پر کنٹرول کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ایشیائی منڈیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

جاپان پہنچنے پر ٹرمپ کو شاہی محل میں خصوصی استقبال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ “مجھے صدر شی جن پنگ پر مکمل بھروسہ ہے اور امید ہے ہم اچھا معاہدہ کریں گے۔”

صرر ٹرمپ جاپان کی نئی وزیراعظم سانائے تاکائچی سے منگل کو ملاقات کریں گے۔ وہ جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم ہیں۔ دونوں رہنما تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کے امور پر بات کریں گے۔ جاپان پہلے ہی 550 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر چکا ہے تاکہ امریکہ کی جانب سے درآمدی محصولات میں چھوٹ حاصل کی جا سکے۔

ٹرمپ کے ساتھ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شامل ہیں۔ بیسنٹ نے بتایا کہ جنوبی کوریا کے ساتھ بھی تجارتی معاہدے کا خاکہ تیار کر لیا گیا ہے، تاہم اسے اس ہفتے حتمی شکل نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ بدھ کو جنوبی کوریا جائیں گے جہاں وہ صدر لی جے میونگ سے ملاقات کریں گے۔ جمعرات کو وہ چینی صدر شی جن پنگ سے مذاکرات کریں گے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں