"آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا فیصلہ”، اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات کے بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد اب تک کیا ہوا؟

آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تیزی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں کمی دیکھی گئی۔

یہ صورتحال اس اعلان کے بعد سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جس کے تحت امریکی فوج پیر کو ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے جہازوں کو روکنا شروع کرے گی۔ تاہم دیگر ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ بندی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، میں رکاوٹ عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے اس راستے پر آمدورفت محدود کر رکھی ہے۔

عالمی معیار کے تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں 7 فیصد سے زائد اضافے کے بعد تقریباً 102 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ اس تنازع کے دوران مجموعی طور پر تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

دوسری جانب ایران کی قیادت نے ممکنہ ناکہ بندی کے جواب میں سخت ردعمل کا اشارہ دیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے کہا ہے کہ ایران کے پاس جوابی اقدامات کے لیے بڑے ذرائع موجود ہیں۔

ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی تاحال برقرار ہے، تاہم مذاکرات میں اہم اختلافات بدستور موجود ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخائر شامل ہیں۔

خطے میں کشیدگی کے اثرات دیگر ممالک تک بھی پھیل رہے ہیں۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، جہاں اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے خلاف ہیں۔

انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق حالیہ لڑائی میں ایران، لبنان، اسرائیل اور خلیجی ممالک میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں