ٹرمپ انتظامیہ مائیک ہکابی کے بیان کے بعد عرب ممالک کو راضی کرنے کی کوشش کر رہی ہے، پولیٹیکو کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے حالیہ دنوں میں متعدد عرب ممالک سے رابطے کیے ہیں تاکہ اُن خدشات کو کم کیا جا سکے جو اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کے ایک بیان کے بعد پیدا ہوئے۔ ہکابی نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل کو پورے مشرقِ وسطیٰ پر کنٹرول کا حق حاصل ہے، جس پر عرب اور مسلم ممالک میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔

پولیٹیکو کے مطابق، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام، جن میں نائب وزیر خارجہ کرس لنڈاؤ اور سیاسی امور کی انڈر سیکریٹری الیسَن ہوکر شامل ہیں، نے متعلقہ ممالک کو یقین دلایا کہ ہکابی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے اور یہ امریکی حکومت کی پالیسی میں کسی تبدیلی کی علامت نہیں۔ ان ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ وضاحت حساس سفارتی نوعیت کی بات چیت کے دوران کی گئی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس معاملے پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم ہکابی کے بیان نے عرب اور مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ یہ بات صدر ٹرمپ کے اس مؤقف سے مختلف سمجھی جا رہی ہے جس میں وہ عرب اور مسلم رہنماؤں کو یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کے الحاق کی اجازت نہیں دیں گے۔

یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ غزہ کی سکیورٹی اور تعمیرِ نو کے لیے عرب اور مسلم ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ اگر امریکہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے قطر اور اردن جیسے ان ممالک کی حمایت بھی درکار ہوگی جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

جمعے کو جاری ہونے والے انٹرویو میں میزبان ٹُکر کارلسن نے ہکابی سے سوال کیا کہ کیا اسرائیل کو اُس خطے پر حق حاصل ہے جسے بعض مذہبی تعبیرات کے مطابق نیل سے فرات تک پھیلا ہوا سمجھا جاتا ہے۔ اس پر ہکابی نے جواب دیا کہ “اگر وہ سب لے لے تو بھی ٹھیک ہوگا”، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ایسا کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ وہ اُن علاقوں کو رکھنا چاہتا ہے جو اس وقت اس کے قبضے میں ہیں اور اپنے شہریوں کا تحفظ چاہتا ہے، جس کا اشارہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی طرف تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی بات کو “کچھ حد تک مبالغہ آمیز بیان” قرار دیا۔

ہفتے کے روز سعودی عرب، مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات سمیت ایک درجن سے زائد ممالک نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ہکابی کے ریمارکس کو “خطرناک اور اشتعال انگیز” قرار دیا اور کہا کہ یہ بیانات غزہ سے متعلق ٹرمپ کے منصوبوں سے براہِ راست متصادم ہیں۔

خلیجی ملک کے ایک سینئر سفارتکار نے، جو ان بات چیت سے واقف ہیں، کہا کہ ایسے بیانات ٹرمپ انتظامیہ کے اس اہم ہدف کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جس کے تحت اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں ضم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق عرب ریاستوں کی خودمختاری کوئی معمولی معاملہ نہیں، خصوصا ایسے وقت میں جب ایک متحد مشرقِ وسطیٰ کی تشکیل کی بات ہو رہی ہو۔

یروشلم میں امریکی سفارت خانے نے وضاحت دی کہ ہکابی کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ خود ہکابی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد پوسٹس میں ٹکر کارلسن اور بعض میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو مکمل تناظر کے بغیر پیش کیا گیا۔

تاریخی پس منظر کے طور پر 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم اردن سے، غزہ اور جزیرہ نما سینا مصر سے، جبکہ گولان کی پہاڑیاں شام سے حاصل کی تھیں۔ بعد میں امن معاہدے کے تحت اسرائیل نے سینا مصر کو واپس کر دیا اور 2005 میں غزہ سے انخلا کیا، تاہم حالیہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی افواج مشرقی غزہ کے بڑے حصے پر موجود ہیں۔

اس وقت پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار مغربی کنارے میں قائم سو سے زیادہ بستیوں میں رہتے ہیں جبکہ دو لاکھ سے زیادہ افراد مشرقی یروشلم میں آباد ہیں، جسے اسرائیل نے 1967 میں اپنے ساتھ ملایا تھا۔ اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں، جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ کو اپنی مستقبل کی ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں