سچا پیار ، ازبک لوک کہانی

بہت زمانہ پہلے بخارا کے قریب ایک گاؤں میں حسن نام کا نوجوان کسان رہتا تھا۔ وہ دن رات کھیتوں میں کام کرتا اور اپنی محنت سے سب کو متاثر کرتا۔ گاؤں میں ہی ایک نیک دل اور حسین لڑکی “دلشاد” بھی رہتی تھی۔ دونوں کے دل ایک دوسرے کی طرف مائل تھے، مگر حالات کچھ ایسے تھے کہ ان کا ساتھ آسان نہ تھا۔

دلشاد کے والد ایک امیر تاجر تھے اور چاہتے تھے کہ بیٹی کی شادی کسی بڑے گھرانے میں ہو۔ حسن غریب تھا، مگر اس کے پاس ایمانداری اور محنت کی دولت تھی۔

ایک دن تاجر نے اعلان کیا کہ جو شخص میری بیٹی کے لیے سب سے قیمتی تحفہ لائے گا، وہی اس کا شوہر بنے گا۔ گاؤں کے رئیس اور دور دراز سے آئے امیر زادے سونے، جواہرات اور بیش قیمت تحفے لائے۔ حسن نے سوچا:’میں غریب ہوں، مگر میرے پاس جو سب سے قیمتی چیز ہے، وہ میری محنت اور میرا سچّا دل ہے۔’

اگلے دن وہ ایک ننھا سا پودا لے آیا، جسے اس نے اپنے ہاتھوں سے لگایا اور کہا:“یہ میرے خون پسینے کی کمائی ہے۔ میں اسے اپنی محبت اور محنت سے بڑا کروں گا۔ اگر دلشاد واقعی میری ہے تو یہ پودا ہمیشہ ہرا بھرا رہے گا۔”

لوگوں نے ہنسی اڑائی، مگر دلشاد نے مسکرا کر پودا قبول کر لیا۔ وقت گزرتا گیا، باقی سب کے دیے ہوئے تحفے پرانے اور بے رونق ہو گئے، مگر حسن کا لگایا ہوا پودا درخت بن گیا، جس کی چھاؤں تلے پورا گاؤں آرام کرنے لگا۔

بالآخر تاجر کو ماننا پڑا کہ سچّا تحفہ وہی تھا جو وقت کے ساتھ سب کے کام آیا۔ اس نے بیٹی کی شادی حسن سے کر دی۔

(ازبک عوام اس کہانی کو محبت اور محنت کی علامت سمجھتے ہیں۔ یہ کہانی سکھاتی ہے کہ محبت کا اصل تحفہ سچائی، قربانی اور محنت ہے، نہ کہ دولت یا جواہرات)

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں