سہ فریقی ریلوے راہداری: وسط و جنوبی ایشیا کی معاشی شاہراہ کا آغاز

سہ فریقی ریلوے راہداری منصوبہ نہ صرف جنوبی و وسطی ایشیا کے درمیان ایک نئے اسٹریٹجک اقتصادی زون کی بنیاد رکھتا ہے، بلکہ اس کی تکمیل علاقائی جغرافیائی سیاست (Geo-Politics) اور جغرافیائی معیشت (Geo-Economics) میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار کو مستحکم کرنے کی طرف ایک عملی قدم ہے۔ کابل میں پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں فزیبلیٹی اسٹڈی کے فریم ورک معاہدے پر دستخط اس امر کا اعلان ہیں کہ خطہ اب نظریاتی تنازعات کی بجائے معاشی انضمام کی جانب بڑھ رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کی بڑی معیشتیں بلاک سیاست سے نکل کر علاقائی انٹرکنیکٹیویٹی اور معاشی روابط کو ترجیح دے رہی ہیں۔ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) روس کے یوریشین اکنامک یونین تک، ہر بڑی قوت وسطی ایشیائی خطے کو ایک کلیدی مرکز تصور کر رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی قیادت میں سہ فریقی ریلوے منصوبہ اسٹریٹجک لحاظ سے اس وقت کی اہم ترین سرمایہ کاری تصور کی جا رہی ہے، جو نہ صرف پاکستان کو وسطی ایشیائی منڈیوں سے جوڑے گا بلکہ افغانستان کو علاقائی ٹرانزٹ ہب بنانے میں بھی معاون ہوگا۔

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا یہ بیان کہ “یہ راہداری علاقائی انضمام کی بنیاد رکھتی ہے”، زمینی حقائق کے عین مطابق ہے۔ پاکستان کی بندرگاہیں، خاص طور پر گوادر، اس راہداری کی تکمیل کے بعد ازبکستان، تاجکستان اور دیگر ’لینڈ لاکڈ‘ ریاستوں کیلئے سمندر تک سستی، قابلِ اعتماد اور تیز رسائی کا ذریعہ بنیں گی۔ فزیبلیٹی اسٹڈی کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ منصوبہ صرف سفارتی خواہشات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل تکنیکی و اقتصادی خاکہ بننے جا رہا ہے۔

اس معاہدے کے پس منظر میں 2022-23 کی پی ڈی ایم حکومت کی پالیسی تسلسل، خاص طور پر افغانستان کے ساتھ سرحدی تعاون، ٹرانزٹ ٹریڈ اور انسداد دہشت گردی پر مربوط مکالمے کی کامیابیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسحاق ڈار بطور سابق وزیر خزانہ اس منصوبے کی قیادت میں جو کردار ادا کرتے رہے، وہ اس معاہدے کی موجودہ شکل میں جھلکتا ہے۔

کابل میں افغان وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند، وزیر خارجہ امیر متقی اور وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے پاکستانی وفد کی ملاقاتیں صرف روایتی سفارتی رسومات تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان میں امن و سلامتی، سرحدی نظم و ضبط، بارڈر مینجمنٹ، اسمگلنگ کے تدارک اور دو طرفہ ٹرانزٹ سسٹم کی جدید کاری جیسے عملی اور فوری نوعیت کے مسائل پر گہرائی سے بات چیت کی گئی۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تذکرہ اس تناظر میں نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ افغانستان کی بدلتی سیاسی صورتحال، داعش خراسان اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کی دوبارہ سرگرمیوں کے پیش نظر یہ ریلوے راہداری تبھی محفوظ رہ سکتی ہے جب خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرز مشترکہ انسداد دہشت گردی مکینزم پر اتفاق کریں۔ پاکستان کی مسلح افواج نے اندرونِ ملک دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جدوجہد کے بعد جو امن قائم کیا، اسے علاقائی تعاون کے ذریعے دیرپا بنانے کی ضرورت ہے۔

اس منظرنامے میں یورپی یونین کے ساتھ برسلز میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کو نظرانداز کرنا زیادتی ہوگی۔ پاکستان کی جانب سے سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور یورپی وفد کی قیادت اولوف سلوگ نے کی۔ اس اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، انسانی حقوق کی پامالی اور غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت جیسے حساس معاملات پر یورپی یونین کی سطح پر بریفنگ دی گئی۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کا مؤقف نہ صرف سنا گیا بلکہ فلسطین کے مسئلے پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جو پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافہ کرتا ہے۔

مجموعی طور پر سہ فریقی راہداری منصوبہ صرف اقتصادی ترقی کی علامت نہیں بلکہ یہ ایک بڑی جیو اسٹریٹجک تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ وہ موقع ہے جہاں پاکستان، افغانستان اور ازبکستان نہ صرف ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر کے ایک نئے ترقیاتی سفر کا آغاز کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مستحکم، مربوط اور ترقی یافتہ جنوبی و وسطی ایشیا کا تصور پیش کر سکتے ہیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان معاہدوں کو جلد عملی جامہ پہنایا جائے، حفاظتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے، اور عالمی سطح پر ان منصوبوں کو سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش بنانے کیلئے بہتر تشہیر کی جائے۔ دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ جنوبی و وسطی ایشیا اب بحرانوں کا مرکز نہیں بلکہ مواقع کی سرزمین بن چکا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں