اسلام آباد ہائی کورٹ میں تین ججز کا تبادلہ، چیف جسٹس کی تقرری پر تشویش برقرار

صدر مملکت، آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت لاہور، سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک، ایک جج کا تبادلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کر دیا ہے۔ وزارت قانون و انصاف کی جانب سے اس تبادلے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا، جس کے مطابق جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر (لاہور ہائی کورٹ)، جسٹس خادم حسین سومرو (سندھ ہائی کورٹ) اور جسٹس محمد آصف (بلوچستان ہائی کورٹ) کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات کیا گیا ہے۔

یہ تبادلے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ججز نے دوسری ہائی کورٹ سے جج لا کر اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمد جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے چیف جسٹس آف پاکستان اور دیگر ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو خط لکھ کر تحفظات کا اظہار کیا۔ خط میں کہا گیا کہ، میڈیا میں یہ خبریں رپورٹ ہو رہی ہیں کہ، لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کیا جائے گا اور بعد ازاں انہیں چیف جسٹس مقرر کیا جائے گا۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) نے حال ہی میں چیف جسٹس کی تقرری کے لیے نئے قواعد متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت کسی بھی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب پانچ سینئر ترین ججز میں سے کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائی کورٹ میں تبادلہ ان نئے قواعد کا حصہ ہو سکتا ہے۔ وہ 8 جون 2015 کو لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے اور ان کے تبادلے کے بعد وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج بن جائیں گے، جس سے انہیں چیف جسٹس بننے کے لیے مضبوط امیدوار تصور کیا جا سکتا ہے۔

عام طور پر ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج کو چیف جسٹس مقرر کیا جاتا ہے، لیکن نئے عدالتی طریقہ کار کے تحت اس روایت کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل، چیف جسٹس یحیی آفریدی کو بھی سپریم کورٹ میں سنیارٹی کے بجائے تیسرے نمبر پر ہونے کے باوجود چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تحفظات اور حالیہ عدالتی فیصلے ملک کی عدالتی پالیسی اور چیف جسٹس کی تعیناتی کے طریقہ کار پر ایک نئی بحث کو جنم دے سکتے ہیں۔ مستقبل میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی پر مزید قانونی اور عدالتی پیش رفت کا امکان ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں