ازبکستان اور افغانستان نے دو طرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ بزنس کونسل قائم کر دی ہے۔ یہ اعلان ازبکستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے کیا ہے۔
کونسل کا باضابطہ آغاز 26 مارچ کو تاشقند میں ایک اجلاس کے دوران ہوا، جس میں افغانستان کی چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے چیئرمین محمد کریم حاشمی کی قیادت میں وفد نے شرکت کی۔ افتتاحی اجلاس میں دونوں ممالک کی کاروباری کمیونٹی اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔
کونسل میں 32 ارکان شامل ہیں۔ ازبک وفد میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حکام اور مختلف شعبوں کی ایسوسی ایشنز کے نمائندے شامل ہیں، جبکہ افغان وفد میں چیمبر کے ارکان اور بڑی نجی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز شامل ہیں۔
اجلاس میں دو طرفہ تجارت کو بڑھانے، بزنس ٹو بزنس تعاون کو فروغ دینے اور نئے مشترکہ منصوبے شروع کرنے پر بات چیت ہوئی۔ تعاون کے لیے ترجیحی شعبوں میں تعمیراتی مواد، ادویات، خوراک کی پیداوار، ٹیکسٹائل، الیکٹریکل انجینئرنگ اور پٹرولیم مصنوعات شامل ہیں۔
دونوں طرف سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مستقبل میں دو طرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھایا جائے۔ اس مقصد کے لیے کئی اقدامات کیے جائیں گے، جن میں برآمدات کی صلاحیت بڑھانا، ڈیجیٹل کسٹمز سسٹمز متعارف کرانا، مالی اور انشورنس خدمات بہتر کرنا اور تجارتی عمل میں شفافیت بڑھانا شامل ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے باقاعدگی سے نمائشیں، بزنس فورمز اور بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں منعقد کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ تاجروں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں اور شراکت داری میں اضافہ ہو۔
ماہرین کے مطابق یہ کونسل حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں اضافے کا تسلسل ہے۔ ازبکستان کے مطابق افغانستان کے ساتھ اس کا تعلق دوستانہ اور تعمیری ہے، اور گزشتہ پانچ سال میں دو طرفہ تجارت 2.5 گنا بڑھ کر 1.7 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔