طورخم سرحد کی بندش، “پاکستانی طالب علم جو اپنے باپ کی فوتگی پر نہیں آسکا”

ضلع دیر سے تعلق رکھنے والا افغانستان کے سپین غر یونیورسٹی میں میڈیکل کے پانچویں سمسٹر کا طالب علم نصیر احمد گزشتہ چار روز سے ہاسٹل کے کمرے میں خون کے آنسو رو رہا ہے۔ دوست ارد گرد جمع ہیں لیکن اس کی تکلیف میں کوئی کمی واقع نہیں ہورہی۔

چار روز قبل نصیر احمد کے والد کی وفات ہوئی لیکن سرحدی گزرگاہ بند ہونے اور ہوائی سفر کے اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے وہ باپ کی میت اور آخری رسومات میں شریک نہیں ہوسکا۔

نصیر احمد کے ہم جماعت طالب علم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تاشقند اردو کو بتایا کہ “تین دن تک ہم اس کے ساتھ غمگساری میں مصروف ہیں۔ تاہم، اس کی ذہنی کیفیت ایسی ہے کہ کلاس لینے بھی نہیں جاتا”۔

پاک افغان طورخم سرحدی گزرگاہ 21 فروری سے دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ چیک پوسٹ پر تعمیرات کی وجہ سے بند ہے۔ اس صورتحال سے تجارتی اور عوامی نقصان کے ساتھ ساتھ افغانستان میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کمیونٹی بھی سخت متاثر ہوئی ہے۔

مردان سے تعلق رکھنے والے افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں میڈیکل کے طالب علم ولید عبداللہ کہتے ہیں کہ”ہماری جماعت کے بیشتر طلبہ کے ویزے اس وقت ایکسپائر ہوچکے ہیں۔ پندہ دن سے طورخم سرحد کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ہم اپنا ویزہ نیا لگوا سکیں”۔

طلبہ کمیونٹی کے یہ ویزے گزشتہ سال اگست میں چھ ماہ کی میعاد کے لیے لگائے گئے تھے، جس کی وجہ سے اب طلبہ کمیونٹی بیک وقت متاثر ہیں۔ عبداللہ ولید کے مطابق “اس میں کچھ حال ہی میں داخلہ لینے والے طلبہ بھی ہیں جو سمسٹر شروع ہونے کے باوجود افغانستان نہیں پہنچ پائے”۔

تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ “متبادل کے طور پر چمن سرحدی گزرگاہ خطرے سے کم نہیں جبکہ وہاں کے لیے درکار وسائل بھی زیادہ ہیں۔ چمن سے کوشش کرنے والے اکثر طلبہ کو ویزے پر داخلہ و برخاست مہر لگانے میں دشواری کا سامنا بھی کرنا پڑا”۔

ویزے ایکسپائر ہونے کی صورت میں طلبہ کا قیام غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔ ولید عبد اللہ نے کہا کہ “اس وجہ سے جاتے وقت افغانستان کی طرف سے ہمیں برخاست مہر نہیں لگائی جاتی جبکہ پاکستان میں داخلہ مہر لگانا ایک کٹھن مرحلہ بن جاتا ہے۔ جرمانے کے طور سو ڈالر ایک مہینے کے حساب سے ادا کرنے پڑتے ہیں”۔

ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالب علم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “ہوائی سفر کے اخراجات ہمارے بس کی بات نہیں جبکہ کوئٹہ کے چمن بارڈر تک رسائی تقریبا ناممکن ہے”۔

وہ کہتے ہیں کہ “اگر ہم چمن بارڈر کے ذریعے جانے کی کوشش کریں گے تو یونیورسٹی میں غیر حاضری کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں 75 فیصد حاضری پوری نہ کرنے پر سمسٹر ضائع ہوجاتا ہے جبکہ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت بھی نہیں ملتی”۔

ان کے مطابق “میرا ایک اور دوست اس وقت پاکستان میں پھنسا ہوا ہے، جس کی وجہ سے اس کی حاضری 75 فیصد سے کم ہوگئی ہے۔ لہذہ، اسے یہ سمسٹر دوبارہ پڑھنا پڑھے گا”۔

ویزے ایکسپائر ہونے کی وجہ سے اکثر طلبہ نام ظاہر کرنے سے کتراتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ غیر قانونی قیام کی وجہ سے وہ حکام کی نظروں میں آسکتے ہیں۔

جلال آباد میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علم وحید شاہ (فرضی نام)نے ویزہ مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ “ہمیں چھ ماہ کا ویزہ لگتا ہے جبکہ تین ماہ کا اسٹے ٹائم دیا جاتا ہے۔ اس دوران دو بار آنا جانا ہمارے لیے ضروری ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ پڑھائی اور حاضری کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔ اس مسئلے کا بھی ایک مستقل حل نکالا جائے”۔

جلال آباد میں میڈیکل کے طالب علم ڈاکٹر بریالے نے تاشقند اردو کو بتایا کہ”اپنے ویزے تازہ کرنے اور چھٹی پر جانے والے کافی طلبہ پاکستان بھی پھنس چکے ہیں جبکہ ان کی حاضری کے معاملے میں جامعہ کسی رعایت کا مظاہرہ نہیں کر رہی”۔

انہوں نے کہا کہ” ہم نے کونسلر سے بار ہا رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہورہا۔ میری معلومات کے مطابق تقریبا ایک ہزار پاکستانی طلبہ ویزے مسائل کا شکار ہیں”۔

تمام طلبہ نے متقفہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ دونوں جانب حکام حکمت اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں اس ذہنی کشمکش سے نکالیں تاکہ وہ اپنی پڑھائی پر پوری طرح سے توجہ دے سکیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں