ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورپ بھر میں صارفین کی عمر کی جانچ کے لیے نئی اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے جا رہا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب یورپی ریگولیٹرز کی جانب سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس کی شناخت اور انہیں پلیٹ فارم سے ہٹانے کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹک ٹاک کے مطابق نئی عمر معلوم کرنے والی ٹیکنالوجی آئندہ چند ہفتوں میں مرحلہ وار یورپ کے مختلف ممالک میں نافذ کی جائے گی۔ یہ نظام گزشتہ ایک سال سے یورپ میں آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیا جا رہا تھا، جس کے بعد اب اسے باقاعدہ طور پر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے تحت صارف کے پروفائل کی معلومات، اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز اور آن لائن رویے کا تجزیہ کیا جائے گا تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا متعلقہ اکاؤنٹ کسی کم عمر بچے کا تو نہیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ٹک ٹاک نے واضح کیا ہے کہ اس سسٹم کے ذریعے مشتبہ قرار دیے جانے والے اکاؤنٹس کو خودکار طور پر بند نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کا جائزہ خصوصی تربیت یافتہ ماڈریٹرز لیں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کا مقصد بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے جبکہ صارفین کی پرائیویسی کو بھی متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
یورپی حکام اس وقت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے عمر کی تصدیق کے طریقۂ کار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ موجودہ نظام یا تو مؤثر نہیں ہیں یا پھر صارفین کی ذاتی معلومات میں حد سے زیادہ مداخلت کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں یورپی پارلیمنٹ بھی سوشل میڈیا پر عمر کی حد مقرر کرنے کے حق میں آواز اٹھا رہی ہے، جبکہ ڈنمارک میں 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز زیر غور ہے۔
دوسری جانب آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک بن چکا ہے جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ برطانیہ میں ٹک ٹاک کے ایک پائلٹ منصوبے کے دوران 13 سال سے کم عمر بچوں کے ہزاروں اکاؤنٹس ہٹا دیے گئے تھے، جسے حکام نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ایسا کوئی واحد طریقہ موجود نہیں جس کے ذریعے صارف کی عمر کی درست تصدیق کی جا سکے اور ساتھ ہی اس کی رازداری بھی مکمل طور پر محفوظ رہے۔ تاہم پابندی کے خلاف اپیل کی صورت میں کمپنی فیشل ایج اسٹی میشن ٹیکنالوجی، کریڈٹ کارڈ چیکس اور سرکاری شناختی دستاویزات جیسے ذرائع استعمال کرے گی۔ اس مقصد کے لیے ٹک ٹاک نے معروف تصدیقی ادارے یوٹی (Yoti) کی خدمات حاصل کی ہیں، جسے فیس بک کی مالک کمپنی میٹا بھی استعمال کر رہی ہے