ٹک ٹاک کے بارے میں ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ پلیٹ فارم نہ صرف اپنی ایپ استعمال کرنے والوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے بلکہ ایسے افراد کا ڈیٹا بھی جمع کرتا ہے جو کبھی اس ایپ کا استعمال نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق، اس نگرانی کا دائرہ کار انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس تک پھیل چکا ہے، جہاں صارفین کی ذاتی معلومات خفیہ طریقے سے حاصل کی جاتی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹک ٹاک ایک مخصوص ٹریکنگ نظام استعمال کرتا ہے جسے “پکسل” کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نہایت باریک اور پس منظر میں کام کرنے والا کوڈ ہوتا ہے جو ویب سائٹس پر نصب کیا جاتا ہے۔ جب کوئی صارف کسی ویب سائٹ پر جاتا ہے تو یہ نظام اس کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات اشتہاری کمپنیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تبدیلیوں کے بعد اس نظام کے ذریعے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
سائبر سکیورٹی سے وابستہ ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض صورتوں میں ویب سائٹس سے صحت، ذہنی دباؤ، بانجھ پن یا دیگر حساس موضوعات سے متعلق معلومات بھی ٹک ٹاک تک منتقل ہو سکتی ہیں، خواہ متعلقہ فرد کا ٹک ٹاک پر کوئی اکاؤنٹ موجود نہ ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن اشتہاری نظام میں اس قسم کی نگرانی کوئی نئی بات نہیں۔ دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اسی نوعیت کے طریقے استعمال کرتی رہی ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق، مسئلہ اس نگرانی کے پھیلتے ہوئے دائرہ کار اور صارفین کی ذاتی زندگی سے متعلق باریک تفصیلات کے جمع ہونے کا ہے، جس سے غلط استعمال کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، مثلا مخصوص اشتہارات کے ذریعے صارفین کو متاثر کرنا یا ان کے بارے میں فیصلے کرنا۔
حالیہ ہفتوں میں ٹک ٹاک کے امریکا میں کاروباری ڈھانچے میں تبدیلی کے بعد ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کمپنی نے اشتہاری نظام میں نئی سہولیات متعارف کرائی ہیں، جن کے تحت مشتہرین کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کوئی صارف اشتہار دیکھنے کے بعد کسی اور ویب سائٹ پر جا کر خریداری کرتا ہے یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس اقدام سے ٹک ٹاک کا اشتہاری نیٹ ورک مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
رازداری کے ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ زیادہ محفوظ انٹرنیٹ براؤزر استعمال کریں یا ایسے اضافی پروگرام نصب کریں جو ٹریکنگ کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات مکمل تحفظ تو فراہم نہیں کرتے، تاہم ڈیٹا کے غیر ضروری تبادلے کو کم ضرور کر سکتے ہیں۔ مزید برآں صارفین کو مختلف ویب سائٹس پر ایک جیسی ذاتی معلومات استعمال کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے تاکہ مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کو آپس میں جوڑنا مشکل ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل مؤثر قوانین اور سخت ضابطہ کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق، جب تک صارفین کی رازداری کے تحفظ کے لیے جامع قانون سازی نہیں کی جاتی، اس نوعیت کی نگرانی کا سلسلہ مختلف شکلوں میں جاری رہنے کا امکان ہے۔