شمالی علاقہ جات میں اوسط درجہ حرارت میں اضافے کے باعث موسم گرما میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ ہے، محکمہ موسمیات پاکستان

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا سبب بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، فروری سے اپریل تک گلگت بلتستان اور کشمیر میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت رہنے کا امکان ہے۔

محکمے کا کہنا ہے کہ رواں موسم سرما کے دوران شمالی پاکستان میں بارش اور برف باری معمول سے کم رہی، جو اس سے قبل جاری کیے گئے موسمی اندازوں کے مطابق ہے۔ یکم سے بائیس فروری 2026 کے دوران گلگت بلتستان میں بارشوں کی کمی اور مسلسل صاف موسم کے باعث فضا میں استحکام پیدا ہوا اور درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس عرصے میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے تین سے پانچ ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ رات کا کم سے کم درجہ حرارت 1981 سے 2010 کے اوسط کے مقابلے میں ایک سے ساڑھے تین ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔

اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ حدت گلگت اور بُنجی میں ریکارڈ کی گئی، جبکہ چلاس اور بُنجی میں رات کے درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جس کے باعث رات کے وقت برف کے دوبارہ جماؤ کا عمل کمزور پڑ گیا۔ مسلسل بلند درجہ حرارت کی وجہ سے بالخصوص درمیانی اور نچلی بلندیوں پر برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ رات کے وقت درجہ حرارت کم نہ ہونے سے پگھلے ہوئے پانی کا بہاؤ گلیشیائی جھیلوں میں بڑھ رہا ہے، جس سے ان جھیلوں میں پانی جمع ہونے کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور نشیبی وادیوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے فروری تا اپریل 2026 کے جائزے کے مطابق، شمالی پاکستان، خصوصا گلگت بلتستان اور کشمیر میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کا قوی امکان ہے۔ اگر گرمی کا یہ رجحان برقرار رہا تو گلگت، غذر، ہنزہ، بُنجی، چلاس اور استور جیسے حساس علاقوں میں گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ اور جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ وہ درجہ حرارت، گلیشیئرز کی صورتحال اور آبی و موسمیاتی عوامل کی مسلسل نگرانی جاری رکھے گا اور متعلقہ اداروں اور مقامی آبادی کو بروقت آگاہی فراہم کی جائے گی۔

یکم سے بائیس فروری کے دوران استور میں اوسط درجہ حرارت 4.3 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ کم سے کم 1.3 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ بُنجی میں اوسط 4.5 اور کم سے کم 2.6 ڈگری، چلاس میں اوسط 4.1 اور کم سے کم 3.4 ڈگری، گلگت میں اوسط 4.7 اور کم سے کم 2 ڈگری، گپس میں اوسط 3.1 اور کم سے کم 1.6 ڈگری جبکہ اسکردو میں اوسط 3.1 اور کم سے کم 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

ادھر گلگت بلتستان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران خطے میں برف باری کا انداز بدل گیا ہے۔ کئی علاقوں میں برف باری تاخیر سے شروع ہوتی ہے اور مقدار بھی پہلے سے کم ہو گئی ہے، جبکہ درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہتا ہے۔ اس سال بھی برف باری جنوری کے آخر میں ہوئی جس سے گرمیوں میں سیلاب کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

گلگت بلتستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے ڈائریکٹر خادم حسین کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی خرابی کے باعث خطے کا نازک ماحولیاتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب برف باری زیادہ تر جنوری کے وسط اور فروری میں ہو رہی ہے، جس سے پہاڑوں اور گلیشیئرز پر برف کے جم کر برفانی تودوں میں تبدیل ہونے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول دیر سے ہونے والی برف باری مضبوطی سے نہیں جم پاتی اور گرمیوں کے آغاز پر تیزی سے پگھل جاتی ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

گزشتہ موسم گرما میں تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز، جھیلوں کے پھٹنے اور موسلا دھار بارشوں کے واقعات نے گلگت بلتستان کے مکینوں کو شدید متاثر کیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال بھی دریاؤں اور گلیشیائی جھیلوں کے قریب آباد آبادیوں کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق، ماضی میں برف باری کا آغاز نومبر کے آخر میں ہو جاتا تھا، لیکن اب دسمبر کے اختتام تک درجہ حرارت غیر معمولی طور پر بلند رہتا ہے۔

گلگت بلتستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے مطابق، 1987 سے 2013 کے درمیان خطے کا اوسط درجہ حرارت تقریبا 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں اچانک سیلاب، گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ اور دیگر موسمیاتی خطرات میں اضافہ اسی تبدیلی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں