لاہور میں اپنے تیس سالہ قیام کے دوران مجھے کئی کرائے کے گھر بدلنے پڑے۔ تکلیف تو خیر اس میں اٹھانا پڑتی ہے، مگر ایک فائدہ بہرحال یہ ہوتا ہے کہ مختلف محلوں اور علاقوں کے ماحول میں رہنے کا تجربہ ہوجاتا ہے۔ لوگ بھی ظاہر ہے ہر جگہ ایک جیسے نہیں ملتے۔ چند سال پہلے میں جس جگہ رہتا تھا، وہاں ہماری گلی(جسے اہل محلہ تفاخر سے سٹریٹ کہا کرتے تھے) کی نکڑ پرایک صاحب رہتے تھے۔ کارنر پلاٹ تھا، جس پر انہوں نے بڑا شاندار گھر بنایا۔ میری ایک آدھ دفعہ ان سے بات چیت ہوئی،پر زیادہ تعلق نہ ہوسکا۔ انہیں حاجی صاحب کہہ کر پکارا جاتا تھا۔
اچھے خاصے بزنس مین تھے۔ شہر کی معروف مارکیٹ میں بڑی سی دکان، بقول شخصے لاکھوں روزانہ کی سیل۔ ان کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ کاروبار میں چاقو کی دھار کی طرح تیز ہیں۔ کسی سے رو رعایت نہیں کرتے۔ محلے دار تو ایک طرف اپنے خاندان تک کو نہیں بخشتے۔ اس خاکسار پر بھی نظر کرم ایک دفعہ اس لئے پڑ گئی کہ انہوں نے اپنی مارکیٹ کی تاجر برادری کا انتخاب جیتا تھا، جس کی تصویر اور خبر’’نمایاں‘‘ لگوانا مقصود تھا۔ گھر کے گیٹ کے باہر تھوڑی دیر کے لئے کھڑے کھڑے بات چیت ہوئی۔ فاخرانہ انداز سے انہوں نے بتایا،’’اپنی تمام زندگی محنت کی ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ میں نے بچوں کے لئے اتنا کچھ اکٹھا کر لیا ہے کہ ان کی سات پشتوں کے لئے کافی ہوگا۔ مجھے دعائیں دیں گے۔ ‘‘مجھے سے رہا نہ گیا، روکتے روکتے بھی منہ سے نکل گیا،’’حضرت اولاد کے لئے بھی ضرور جمع کریں، مگر اپنے لئے اکٹھا کرنے پر زیادہ توجہ دیں۔ دعائیں لینی ہیں تو ان غریبوں کی لیں،جن کی بے لوث دعائیں سیدھی عرش تک پہنچتی ہیں۔‘‘یہ بات ان کو زیادہ پسند نہ آئی، برا سا منہ بنا کراندر چلے گئے۔
اتفاق سے ہمارے وہاں پر رہنے کے دوران ہی حاجی صاحب دل کے دورے سے انتقال کر گئے۔ اولاد جوان تھی، ان کو آزادی ملی اور ساتھ ہی کروڑوں کی جائیداد بھی۔ بمشکل چالیسواں گزرا ہوگا کہ انہوں نے پر پرزے نکالنا شروع کر دیے۔ پرانی چھوٹی گاڑی بیچ کربیش قیمت نئی گاڑی خرید لی۔ دنوں میں ان سب بھائیوں کی حالت بدل گئی۔حلیہ عجیب وغریب ہو گیا۔ ایک نے بکری کی دم جیسی پونی بنا لی، کسی نے سر پر بال یوں کھڑے کر لئے، گویا کسی نے ابھی زور سے نوچے ہوں، ہاتھوں میں کڑے، کانوں میں سونے کے ننھے ننھے سے ٹاپس۔ جلد گلی میں یہ بھی مشہور ہو گیا کہ حاجی صاحب کے لڑکے شراب و شباب کے چکر میں بھی پڑ چکے ہیں۔ ممکن ہے کسی محلے دار نے سمجھایا بھی ہو، غالباً اسی لئے چھ ماہ کے اندر اپنا گھر بیچ باچ ایک پوش علاقے میں شفٹ ہوگئے۔ ایسا علاقہ جہاں برسوں ساتھ رہنے والے کا بھی اپنے پڑوسی سے تعارف نہیں ہو پاتا۔
اس واقعے کے بعد میں سوچتا رہا، ایک دو بار دوستوں کی محفل میں بھی یہ بات چھیڑی،بار بار خیال آتا کہ ان کے مرحوم باپ نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ان کی محنت کی کمائی کو یوں بے دردی سے اڑایا جائے گا۔ یہ خیال بھی آیا کہ اگر وہ صاحب اپنی زندگی میں اس مال کا کچھ حصہ غریبوں اور نادار لوگوں پر صرف کرتے، کسی فلاحی کام کرنے والی این جی او کی مدد کرتے، کوئی ایسا ٹرسٹ قائم کر جاتے جو ان کے لئے بعد میں صدقہ جاریہ ثابت ہوتا تو ان کے لئے یہ سب کتنا مفید ثابت ہوتا۔ افسوس کہ ہم اپنے حال ہی میں کھوئے رہتے ہیں اور اپنے مستقبل … یقینی مستقبل کے حوالے سے کچھ نہیں سوچتے۔
ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے۔ سلجوقی سلطان نے اپنے وزیر نظام الملک طوسی کو خزانے کا ایک بڑا حصہ دیا اور کہا کہ اس سے کچھ نئے دستے بھرتی کرو، ایسے ہتھیار بناؤ جن کی دنیا بھر میں شہرت ہو، ایسے تیر بنواؤ جن سے زیادہ دور تک مار کرنے والے تیر کسی نے نہ بنائے ہوں۔ دانشمند وزیر نے وہ پیسہ لیا اور خاموشی سے دارالحکومت اور چند دوسرے بڑے شہروں میں عظیم الشان مدرسے اور ریسرچ سنٹر بنائے،جہاں ہزاروں نادار مگر ذہین طلبہ مفت تعلیم پاتے، ان کے قیام و طعام کا بہترین انتظام ہوتا۔ جیسا کہ درباروں میں اکثر ہوتا ہے، وزیر کے مخالفوں نے بادشاہ کے کان بھرے کہ اس کا خزانہ درست کام پر خرچ نہیں کیا گیا۔ سلطان نے ایک دن وزیرکو بلایا اور کہا کہ مجھے وہ تیر کمان، ہتھیار اور سپاہی دکھائو۔ نظام الملک طوسی بادشاہ کو شہر کے اس مدرسے میں لے گیا، صحن میں سینکڑوں طلبہ بیٹھے درس لے رہے تھے، اس زمانے کے بہترین اساتذہ انہیں اس عہد کے قدیم و جدید علوم سکھا رہے تھے۔ وزیر نے نرم لہجے میں بادشاہ کو سمجھایا،’’آپ کے پیسوں کا بہترین استعمال یہیں ہونا چاہیے تھا۔ باقی رہی سپاہ کی بات تو وہ تو لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں،اس رقم سے کچھ ان کی بہتر تربیت اور ساز و سامان بھی خرچ ہوا ہے، مگر کمان جتنی اچھی بن جائے، اس کے تیر چند سو گز سے آگے نہیں جا سکتے، ہتھیار جتنے اچھے بن جائیں، ان کی عمر صرف چند برس ہی ہوتی ہے۔ یہ کام البتہ ایسا ہے کہ اس کے ثمرات بادشاہ کو نہ صرف اس کی زندگی میں بلکہ اس کے بعد بھی ملتے رہیں گے۔ ان بچوں میں سے بہت سے ایسے عالم، ہندمند، دانشور اور دانا لوگ پیدا ہوں گے، جن پر ایک عالم رشک کرے گا، ان کی دعائیں بھی ہزاروں لاکھوں میلوں کا سفر طے کر کے عرش معلیٰ تک پہنچیں گی۔‘‘
خاکسار کو کالم لکھتے دوعشرے بیت چکے ہیں۔ اس دوران متنوع قسم کے تجربات ہوئے۔ بہت پہلے ایک مشہور بھارتی ہدایت کار کا انٹرویو پڑھا تھا، انہوں نے بتایا کہ اپنے چالیس پچاس سالہ تجربے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہٹ فلم کا کوئی خاص فارمولا نہیں ہے۔ کسی فلم پر بہت زیادہ خرچ کیا جائے، کہانی اچھی،کاسٹ بہترین، موسیقی شاندار، ڈائریکشن بے مثال ہو، پھر بھی کسی نامعلوم وجہ کی بنا پر وہ فلم ناکام ہوجاتی ہے یا اوسط درجے کا بزنس کرتی ہے۔ اس کے برعکس کبھی کوئی فلم ایسی بھی بنتی ہے، کاسٹ عام سی ہوتی، خرچہ کم ہوتا ہے، اس کے باوجود وہ سپرہٹ ہوجاتی ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ اپنی ذاتی تجربے کے دوران میں نے بھی یہی دیکھا کہ کسی ہٹ کالم کا کوئی خاص فارمولہ نہیں۔ کسی کالم پر بہت محنت کی جائے، اس کی نوک پلک سنوارنے پر گھنٹوں صرف ہوں، لکھ کر بھی اطمینان محسوس ہوتا ہے، مگر اگلے دن اس پر نہ ہونے کے برابر فیڈ بیک ملتا ہے۔ اس کے برعکس کئی بار قلم برداشتہ کالم لکھا گیا، آخری لمحوں میں مکمل ہوا، دوسری نظر ڈالنے کا وقت ہی نہیں ملا، رات کو یہی سوچتے رہے کہ کاش اسے شائع ہونے کے لئے نہ بھیجا ہوتا، مگر فیڈ بیک اس پر غیرمعمولی ملا۔
ظاہر ہے ہر لکھنے والے کی طرح ہمیں بھی قارئین کی پسند ناپسند کو خاصی حد تک ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔ ایک بات پر مگر میں پوری طرح یکسو ہوچکا ہوں کہ سماج میں مثبت رجحانات کی حوصلہ افزائی کرنا اشد ضروری ہے۔ ایسے اہل علم ودانش کی پزیرائی ضروری ہے، جنہیں مین سٹریم میڈیا نظر انداز کر رہا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ سماجی کام کرنے والوں کو نمایاں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
حقیقت میں یہی لوگ ہی معاشرے کے ہیروز ہیں، جنہیں عزت و مرتبت دینے کی ضرورت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنے کالموں میں جب بھی کسی کی مدد کے لئے لکھا، ہمیشہ کسی حکومتی ادارے کے بجائے انفرادی طور پر ہی لوگوں نے مدد کی۔البتہ پچھلے دو عشروں میں کئی ایسی فلاحی کام کرنے والی تنظیموں سے واسطہ پڑا، جو معاشرے کے مختلف طبقات کو ریلیف پہنچانے کے لئے غیرمعمولی کام کر رہی ہیں۔ ان پر بارہا لکھا بھی جا چکا ہے۔ مجھے ہمیشہ ان لوگوں پر رشک آتا ہے جو ہر طرف سے چھائے اندھیروں کی پروا کئے بغیر اپنے اپنے حصے کی شمع جلاتے بلکہ جو قرض واجب تھا، اس سے بھی زیادہ چکاتے ہیں۔ ان بزنس مینوں پر بھی رشک آتا ہے،جو اپنے آمدنی کا بڑا حصہ ان اچھا کام کرنے والی این جی اوز کو دے ڈالتے ہیں۔ایسے لوگ بھی ہیں جو کروڑوں ماہانہ کی چیریٹی کرتے ہیں۔مجھے ہمیشہ یہی لگا کہ یہ قدرت کی جانب سے ودیعت کردہ اعزاز ہی ہے جو ان کے حصے میں آیا۔ ورنہ ایسے بھی بہت ہیں جوفلاحی کام کرنے کے منصوبے بناتے،عہد کرتے اور پھر اس پر عمل نہیں کر سکتے۔ میری ذاتی رائے میں حکومتوں کو بھی اپنی توجہ ایسے ادارے قائم کرنے پر صرف کرنی چاہیے، جو نچلے اور متوسط طبقوں کو ریلیف پہنچا سکیں۔ سیاست تو جاری رہتی ہے، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر اصل کریڈٹ ایسے ادارے ہیں جو باقی رہ جائیں اور مستقل بنیادوں پر لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لے آئیں۔
ہمارے ہاں اہل خیر کی کمی نہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دینے والے اب تھک گئے ہیں، ڈونر فٹیگ کی اصطلاح ایسی صورتحال کے لئے استعمال کی جاتی ہے، اوپر سے ملک میں مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھ ہی رہے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاری نے ایک بار پھر پورے سماج کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بیس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے، بے شمار ایسے جو سڑک پر آگئے۔ یہ سب ستم رسیدہ، تکلیف میں موجود لوگ ہماری مدد، ہماری توجہ کے طالب ہیں۔ اس طرف ہمیں فوکس کرنا چاہیے۔ یہی وہ کام ہے جو سب سے زیادہ ضروری ہے.