سعودی عرب نے ایک اور عالمی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے جدہ میں دنیا کے سب سے بڑے فوڈ کلسٹر کا قیام عمل میں لایا ہے، جس کا رقبہ 11 ملین مربع میٹر سے زائد ہے۔ یہ ریکارڈ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا ہے، جو مملکت کی ترقیاتی کوششوں کا عکاس ہے۔
20 ارب ریال کی سرمایہ کاری کا ہدف
سعودی صنعتی شہروں اور ٹیکنالوجی زونز کی اتھارٹی (مدن) کے مطابق، یہ فوڈ کلسٹر 20 ارب ریال کی مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت 2035 تک 10 مختلف صنعتی شعبوں میں 43,000 ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
مدن نے مزید بتایا کہ اگلے 10 سالوں میں فوڈ کلسٹر سعودی قومی برآمدات کو تقریباً 8 بلین ریال تک بڑھانے اور ملکی پیداوار میں 7 بلین ریال کا اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یہ فوڈ کلسٹر خدمات کے انضمام کے ذریعے آپریشنل اخراجات کو 5 سے 12 فیصد تک کم کرنے میں معاون ہوگا۔ ساتھ ہی، یہ سپلائی چینز کے درمیان باہمی رابطے کے لیے ایک مربوط ماحولیاتی نظام فراہم کرے گا، جس سے قومی غذائی تحفظ کو تقویت ملے گی۔
قومی صنعتی حکمت عملی کا اہم حصہ
جدہ کے دوسرے اور تیسرے صنعتی شہروں میں حالیہ افتتاح کے ساتھ یہ فوڈ کلسٹر سعودی عرب کی قومی حکمت عملی برائے صنعت اور قومی صنعتی ترقی و لاجسٹک سروسز پروگرام کا ایک اہم اقدام ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف جدہ بلکہ پورے ملک میں اقتصادی اور صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا۔
یہ فوڈ کلسٹر سعودی وژن 2030 کے اہداف کی تکمیل میں ایک نمایاں قدم ہے، جو مملکت کو عالمی صنعتی و تجارتی نقشے پر مزید مستحکم مقام دلانے کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔