‘جنگ تب ختم ہوگی جب ایران کی شرائط پوری ہوں گی’، ایران نے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجاویز کو مسترد کر دیا

ایران نے جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ کا اختتام صرف ان کی اپنی شرائط اور وقت کے مطابق ہی ہوگا۔

ایران کی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق، ایک سینئر سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ تہران کسی صورت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار نہیں دے گا کہ وہ جنگ کے خاتمے کا وقت طے کریں۔

عہدیدار نے کہا ہے کہ کہ ایران جنگ اس وقت ختم کرے گا جب وہ خود فیصلہ کرے گا اور جب اس کی اپنی شرائط پوری ہوں گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچاتا رہے گا جب تک اس کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ مختلف سفارتی ذرائع سے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایران ان تجاویز کو ‘حقیقت سے دور’ اور ‘زیادہ مطالبات پر مبنی’ قرار دیتا ہے۔

عہدیدار نے 2025 میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں بھی امریکہ کی نیت سنجیدہ نہیں تھی اور بعد میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں کی گئیں۔

ایرانی حکام نے حالیہ پیشکش کو بھی ایک چال قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ واضح شرائط پیش کی ہیں۔

ان شرائط میں پہلی شرط دشمن کی جانب سے ہر قسم کی جارحیت اور ٹارگٹ کلنگ فوری طور پر روکنا ہے۔

دوسری شرط کے مطابق ایسے ٹھوس اقدامات کیے جائیں جن سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں دوبارہ جنگ مسلط نہ کی جائے۔

تیسری شرط میں جنگ سے ہونے والے نقصانات کا واضح اور یقینی ازالہ شامل ہے۔

چوتھی شرط یہ ہے کہ جنگ تمام محاذوں پر مکمل طور پر ختم کی جائے اور خطے میں شامل تمام مزاحمتی گروہوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔

پانچویں شرط کے تحت آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو اس کا قانونی اور فطری حق تسلیم کیا جائے اور اسے دیگر شرائط پر عملدرآمد کی ضمانت سمجھا جائے۔

عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان تمام شرائط کو تسلیم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے اور ایران اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘جنگ کا خاتمہ اس وقت ہوگا جب ایران خود اسے ختم کرنے کا فیصلہ کرے گا، نہ کہ جب ٹرمپ ایسا چاہیں۔’

یاد رہے کہ یہ جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی جب ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ فوجی اور سرکاری شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد ایران نے اب تک تقریبا 80 مراحل پر مشتمل جوابی حملے کرتے ہوئے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں