امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے جنوب میں شہر میناب کے ایک پرائمری اسکول پر 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی مہلک حملوں میں استعمال ہونے والے میزائل کے ٹکڑوں کی تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ یہ امریکی ساختہ کروز میزائل کے ہیں۔
ایران کی سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے ٹیلی گرام پر شیئر کی گئی تصاویر میں میزائل کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے اسکول کی جگہ پر رکھے گئے ہیں، جنہیں اس تباہ کن حملے کا حصہ بتایا گیا ہے۔ اسکول پر ہونے والے حملے میں کم از کم 175 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق، میزائل کے کچھ حصوں پر امریکی کمپنیوں کے نام اور تاریخ درج ہیں، جن میں بیل ایسٹرو اسپیس اینڈ ٹیکنالوجیز کارپوریشن اور گلوب موٹرز شامل ہیں۔ ان کمپنیوں نے امریکی دفاعی وزارت کے لیے میزائل کے رہنمائی نظام اور دیگر اجزاء تیار کیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ شواہد سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسکول پر حملہ ممکنہ طور پر قریبی بحری اڈے کو نشانہ بنانے والی امریکی کارروائی کے دوران ہوا۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کیا ہےکہ ایران کے پاس بھی ٹومہاک میزائل ہیں، حالانکہ ایران کے پاس ایسے میزائل نہیں ہیں۔ صرف چند ممالک، جیسے آسٹریلیا اور برطانیہ، ٹومہاک میزائل رکھتے ہیں اور کسی تیسری پارٹی کو منتقل کرنے کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کی اجازت ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے اپنے کروز میزائل طرز اور ساخت میں ٹومہاک سے مختلف ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اور غیر ملکی تجزیہ کاروں نے میزائل کے ٹوٹے ہوئے حصوں کی تصاویر کا موازنہ پچھلے تنازعات میں استعمال ہونے والے ٹومہاک میزائل کے ٹکڑوں سے کیا ہے، اور تصدیق کی ہے کہ یہ شواہد اسی قسم کے میزائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔