حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے پہلے جائزے میں تین اہم اہداف حاصل کرنے میں ناکام

حکومت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے پہلے جائزے میں تین بڑے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ نیٹ ٹیکس ریونیو، تعلیم اور صحت کے اخراجات کے لیے مقررہ اہداف اور مقامی کرنسی ڈیبٹ سکیورٹیز کی میچورٹی میں ناکامی سامنے آئی ہے۔
حکومت 2652 ارب روپے کے نیٹ ٹیکس ریونیو کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں 85 ارب روپے کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں پر 685 ارب روپے کے اخراجات کا ہدف بھی ستمبر 2024 کے اختتام تک پورا نہیں کیا جا سکا۔
دستاویزات کے مطابق حکومت ستمبر 2024 تک مقامی کرنسی ڈیبٹ سکیورٹیز کے اسٹاک کی میچورٹی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی۔

22 اسٹرکچرل بینچ مارک پر عملدرآمد کی ضرورت
آئی ایم ایف نے پاکستان کو پروگرام کے تحت 22 اسٹرکچرل بینچ مارک دیے ہیں، جن میں سے 18 وفاقی حکومت اور 4 اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے متعلق ہیں۔ ان بینچ مارک پر مکمل عملدرآمد جولائی 2025 تک کیا جانا ہے۔

یہ ناکامی مالیاتی نظم و ضبط اور سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے درپیش چیلنجز کو واضح کرتی ہے، جو پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی میں اہمیت رکھتے ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں