منیر نیازی نے کہا تھا:
منیرؔ ، اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؟
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ!
اس شعر کی صداقت دیکھنی ہو، تو صرف ربا کے خاتمے کےلیے 1980ء سے اب تک کیے گئے اقدامات پر نظر ڈال لیجیے۔ 1980ء میں وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی، تو مالیاتی امور سے متعلق قوانین کو اس کے اختیارِ سماعت سے دو سال کےلیے مستثنیٰ کیا گیا تاکہ ان دو سالوں میں ان قوانین کو حکومت خود تبدیل کرلے۔ پھر اس مدت کو پانچ سال کردیا گیا اور جب پانچ سالوں میں بھی یہ کام نہیں ہوسکا، تو اسے بڑھا کر دس سال کردیا گیا۔ 1990ء میں یہ مدت پوری ہوئی، تو ان قوانین کے خلاف کئی درخواستیں وفاقی شرعی عدالت میں دائر کی گئیں اور ان درخواستوں پر عدالت نے فیصلہ دیا کہ جن قوانین میں سود کو تحفظ دیا گیا ہے یہ غیر اسلامی ہیں کیونکہ سود ربا کی تعریف میں داخل ہے اور ربا کو اللہ اور اس کے رسول نے قطعی حرام کیا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیلوں پر سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بنچ نے 1999ء میں فیصلہ سنایا اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ تاہم جون 2002ء میں نظرِ ثانی کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے بنچ نے اپنا سابقہ فیصلہ ختم کرتے ہوئے مقدمہ واپس شرعی عدالت میں بھیج دیا (اور ایسا کرتے ہوئے نظرِ ثانی کے متعلق تمام آئینی و قانونی اصول پامال کیے گئے)۔ 2002ء سے 2022ء تک، یعنی 20 سال یہ مقدمہ شرعی عدالت میں معلق رہا۔ بالآخر شرعی عدالت نے ایک بار پھر تقریباً وہی فیصلہ سنادیا جو اس نے 31 سال قبل سنایا تھا۔ اب کی بار عدالت نے ربا کو تحفظ دینے والے قوانین کے خاتمے کےلیے یکم جنوری 2028ء کا ہدف رکھا۔
اگرچہ یہ فیصلہ فی الحال اس بنا پر غیر مؤثر ہے کہ اس کے خلاف اپیلیں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں معلق ہیں، لیکن اکتوبر 2024ء میں 26ویں آئینی ترمیم نے بھی آئین کی دفعہ 38 کی شق ایف میں ربا کے خاتمے کےلیے یہی تاریخ مقرر کردی ہے۔ آئین کی یہ دفعہ ”پالیسی کے اصولوں“ کے باب میں ہیں اور اس باب کی دفعہ 30 میں تصریح کی گئی ہے کہ اس باب کی دفعات کی خلاف ورزی پر کوئی عدالتی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اسی باب کی دفعہ 29 میں صدر اور گورنر کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ان اصولوں کی تنفیذ کےلیے اٹھائے گئے اقدامات کے متعلق ہر سال پارلیمان اور صوبائی اسمبلی میں رپورٹیں جمع کروائیں۔ وفاقی حکومت کے ضوابطِ کار (Rules of Business) میں ضابطہ 26 کے مطابق ایسی رپورٹیں تیار کرنا کیبنٹ ڈویژن کا، اور انھیں ہر سال جولائی کے مہینے میں پارلیمان میں جمع کرانا لا اینڈ جسٹس کمیشن کا کام ہے۔ واضح رہے کہ لا اینڈ جسٹس کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان کرتے ہیں۔
چنانچہ جولائی 2025ء میں اس ضمن میں پہلی رپورٹ جمع کرانا لازم تھی جس میں پارلیمان کو اور قوم کو آگاہ کیا جاتا کہ ربا کے خاتمے کےلیے وفاقی حکومت نے اس مالیاتی سال میں اپنے لیے کیا اہداف مقرر کیے تھے، ان اہداف تک رسائی میں کس حد تک کامیابی ہوئی اور جہاں کامیابی نہیں ہوئی، اس کی وجوہات کیا تھیں، آئندہ سال کےلیے مزید کیا اہداف مقرر کیے گئے ہیں اور آئندہ سال ان اہداف کا حصول کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ ایسی ہی رپورٹیں جولائی 2026ء اور جولائی 2027ء میں جمع کرانا لازم ہوگا۔ پس آئین نے جو کام بنیادی حقوق کے تحفظ کےلیے عدلیہ کے سپرد کیا ہے، وہی کام اس نے پالیسی کے اصولوں کے نفاذ کےلیے پارلیمان کے ذمہ ڈالا ہے۔ کیا ارکانِ پارلیمان اپنی یہ آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں سنجیدہ ہیں؟ یہ سوال اہم ہے کیونکہ حکومت نے سیاسی مجبوری کی وجہ سے (کہ 26 ویں ترمیم کےلیے مولانا فضل الرحمان کا تعاون درکار تھا) یہ شق آئین میں ڈال تو دی ہے، لیکن اب لگتا یہ ہے کہ وہ اس سے گریز کےلیے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے وزارتِ قانون سے ایک استفسار کیا گیا ہے کہ ربا کے خاتمے کےلیے آئین کی دفعہ 38، ایف، میں یکم جنوری 2028ء کی جو تاریخ مقرر کی گئی ہے، کیا اس کا اطلاق پاکستان میں کاروبار کرنے والے غیر ملکی بینکوں اور ان بینکوں پر بھی ہوتا ہے جن کے شیئر ہولڈروں کی اکثریت غیر ملکی ہے؟ اس استفسار کا جواب وزارتِ قانون نے نفی میں دیا ہے اور قرار دیا ہے کہ چونکہ پاکستان پر بین الاقوامی معاہدات کی پابندی لازم ہے اور ”معاہدات کے متعلق میثاقِ ویانا 1969ء “کی دفعہ 27 میں قرار دیا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدات پر عمل درآمد نہ کرسکنے کےلیے یہ عذر پیش نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارا ملکی قانون اس عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ہے، اس لیے ہم ربا کے خاتمے کا قانون ان بینکوں پر لاگو نہیں کرسکتے، اور اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم بین الاقوامی تنازعات میں الجھ سکتے ہیں اور ہم پر اربوں کے جرمانے عائد کیے جاسکیں گے!
آئین اور بین الاقوامی قانون کی تدریس کے ربع صدی کے تجربے کی بنیاد پر مجھے یہ کہنے دیجیے کہ وزارتِ قانون کا یہ موقف ہمارے آئین کی رو سے بھی غلط ہے اور بین الاقوامی قانون کی رو سے بھی۔
پہلی بات یہ ہے کہ میثاقِ ویانا کا اطلاق ریاستوں کے مابین معاہدات پر ہوتا ہے۔ چلیں، آپ اس کا اطلاق ان سمجھوتوں اور وعدوں پر بھی کرلیں جو کسی ملک کی حکومت نے کسی غیر ملکی کمپنی کا ادارے کے ساتھ کیے ہوں؛ لیکن سوال یہ کہ اس کا اطلاق ان حقیقی یا اعتباری اشخاص پر کیسے ہوتا ہےجو آپ کے ملک میں کاروبار کررہے ہوں؟ آئین اور قانون کا صریح تقاضا یہ ہے کہ غیر ملکی فرد ہویا کمپنی، وہ آپ کے ملک کے آئین اور قانون کی پابندی کرے۔ آئین کی دفعہ5 میں صراحت کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ پاکستان کے آئین اور قانون کی پابندی ہر پاکستانی پر لازم ہے خواہ وہ پاکستان کے اندر ہو یا باہر، اور یہ فریضہ پاکستان کے اندر موجود ہو ہر غیر ملکی شخص کا بھی ہے۔ واضح رہے کہ اس فریضے کو آئین نے inviolable قرار دیا ہے، یعنی یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی غیر ملکی شخص پاکستان میں موجود ہو اور وہ یہاں کے آئین اور قانون کا پابند نہ ہو۔
اگر وزارتِ قانون کا موقف یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ایسے بینکوں کو پاکستان میں کاروبار کرنے کی اجازت اس وعدے کے ساتھ دی ہے کہ وہ یہاں کے آئین و قانون کے پابند نہیں ہوں گے، تو یہ موقف بھی یکسر غلط ہے کیونکہ آئین کی دفعہ 4 کی رو سے حکومت کوئی ایسا وعدہ کر ہی نہیں سکتی جس کی اسے آئین اور قانون نے اجازت نہ دی ہو، اور اس نے ایسا وعدہ کر بھی لیا، تو اس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس اصول کی تصریح تو میثاقِ ویانا کی دفعہ 46 میں بھی ہے جس کا حوالہ وزارتِ قانون کے مذکورہ نوٹ میں بھی دیا گیا ہے۔ اس دفعہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی معاہدہ کرتے ہوئے اگر آپ کے ملک کے کسی شخص نے ایسے معاملے میں رضامندی ظاہر کی ہے جس کی اسے ملکی قانون کی رو سے اجازت نہیں تھی، تو اس ذمہ داری سے مبرا ہونے کےلیے یہ عذر پیش کیا جاسکتا ہے بشرطے کہ ملک کے ”سب سے بنیادی قانون“ میں وہ ممانعت واضح طور پر مذکور ہو۔ ظاہر ہے کہ ہمارا سب سے بنیادی قانون ہمارا آئین ہے جس کے دیباچے کے علاوہ دفعہ 1، دفعہ 2، دفعہ 31، دفعہ 38، دفعہ 227 اور کئی دیگر دفعات میں تصریح کی گئی ہے اور اس پر اعلی عدلیہ کے متعدد تفصیلی فیصلے موجود ہیں کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس میں کوئی قانون اسلامی احکام سے متصادم نہیں بنایا جاسکتا اور رائج الوقت تمام قوانین کو اسلامی احکام کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ، اور یکم جنوری 2028ء تک ملک سے ربا کا مکمل خاتمہ کرنا لازم ہے۔
یہاں اس میں تیسرے اصول کا بھی اضافہ کیجیے کہ بین الاقوامی معاہدات کو ملک کے اندر اس وقت تک نافذ نہیں کیا جاسکتا جب تک ان معاہدات کو باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے ملک کے قانونی نظام کا حصہ نہ بنادیا جائے۔ ایسی قانون سازی کو incorporating legislation کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان نے ”سفارتی تعلقات کے متعلق میثاقِ ویانا 1961ء“ کی توثیق کے بعد پارلیمان سے باقاعدہ ایک قانون منظور کیا: Diplomatic and Consular Privileges Act, 1972؛ چنانچہ اب جب سفارتی عملے کے کسی فرد کے مراعات یا استثنا کا سوال اٹھتا ہے، تو ہماری عدالتیں اس قانون کا نفاذ کرتی ہیں۔ البتہ جہاں ابہام ہو، دو یا زائد ممکن تعبیرات ہوں ، وہاں ترجیح دینے کے لیے اور کسی خاص تعبیر کو اپنانے کےلیے بین الاقوامی معاہدے کا متن اور اس کی تشریحات کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔ گویا یہاں بھی اصل کی حیثیت آپ کے ملکی قانون کو حاصل ہوتی ہے اور معاہدے کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سپریم کورٹ نے مشہور شہلا ضیاء کیس میں طے کیا:
“An international agreement between the nations if signed by any country is always subject to ratification, but it can be enforced as a law only when legislation is made by the country through its legislature.”
بیرونی
(اقوام کے درمیان ہونے والا کوئی بین الاقوامی معاہدہ کسی ملک کی جانب سے دستخط کے بعد ہمیشہ توثیق کا محتاج ہوتا ہے، لیکن وہ اس وقت تک قانون کے طور پر نافذ نہیں ہو سکتا جب تک اس ملک کی مقننہ کے ذریعے اس کے نفاذ کے لیے قانون سازی نہ کی جائے۔)
پس جب آپ نے ان بینکوں کو مستثنیٰ کرنے کے لیے ملک میں قانون بنایا ہی نہیں ہے، تو محض میثاقِ ویانا کی دفعہ 27 کا حوالہ دے کر کیسے آپ ان کو مستثنی قرار دے سکتے ہیں؟
یہ بھی واضح رہے کہ اگر ان بینکوں کےلیے کوئی قانون بنایا بھی گیا، تو پاکستان کے تمام قوانین کی طرح اس قانون کے لیے بھی یہ لازم ہوگا کہ وہ اسلامی احکام سے متصادم نہ ہو۔ یہ اصول آئین میں بھی درج ہے، قانون میں بھی اس کی تصریح ہے اور اعلی عدلیہ کے متعدد لازمی نظائر میں بھی یہ اصول طے شدہ ہے۔ یہاں میں خصوصاً ”قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء“ کی دفعہ 4 کا حوالہ دینا چاہوں گا جس میں صراحت کی گئی ہے کہ تمام عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ قوانین کی ایسی تعبیر اختیار کریں جو اسلامی احکام اور آئین میں درج پالیسی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔ 2023ء میں سپریم کورٹ کے ”فل کورٹ بنچ “ نے راجا عامر بنام وفاقِ پاکستان مقدمے میں پوری صراحت کے ساتھ طے کیا کہ آئین کی بھی وہ تعبیر اختیار کرنا لازم ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ یہ فیصلہ اس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا اور ان کے ساتھ 8 ججوں نے اتفاق کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ 6 دیگر ججوں نے بعض دیگر پہلوؤں پر ان کے ساتھ اختلاف کیا، لیکن اس اصول سے ان میں بھی کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ یوں 9 ججوں نے صراحت کے ساتھ اور 6 ججوں نے خاموشی کے ساتھ یہ اصول مان لیا ہے اور اب اس اصول کو بدلنے کےلیے کم از کم 16 ججوں کا بنچ درکار ہوگا!
وزارتِ قانون کے اس نوٹ میں افسوسناک امر یہ ہے کہ صرف اتنا ہی نہیں کیا گیا کہ ان بینکوں کو مستثنیٰ قرار دینے کےلیے بین الاقوامی معاہدات کے اصولوں کو ملک کے اندر کاروبار کرنے والے اشخاص پر لاگو کیا گیا، اور آئین و قانون کے طے شدہ اصولوں کو نظر انداز کیا گیا، بلکہ کسی دلیل اور ثبوت کے بغیر یہ دعوی بھی کیا گیا کہ 26 ویں ترمیم کے وقت آئین کی دفعہ 38، ایف، میں یکم جنوری 2028ء کی تاریخ طے کرتے ہوئے مقننہ کا ارادہ یہ تھا کہ ان بینکوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا! حیرت ہے کہ اتنا بڑا دعوی کرتے ہوئے نہ تو آئینی دفعات کا کوئی حوالہ دیا گیا اور نہ ہی پارلیمان یا قائمہ کمیٹیوں کے مباحث سے کوئی اقتباس نقل کیا گیا۔
وزارتِ خزانہ کے استفسار اور وزارتِ قانون کے جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ربا کے خاتمے میں ہرگز سنجیدہ نہیں ہے اور اس خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے میں ابھی بہت سے مرحلے طے کرنے اور بہت سے معرکے سر کرنے ہوں گے۔ پھر منیر نیازی یاد آگئے!
اک اور دریا کا سامنا تھا، منیرّ، مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا، تو میں نے دیکھا!