کچھ سال پہلے ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اسمارٹ گھر کا تصور پیش کیا تھا جس میں گھریلو آلات انٹرنیٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسا فریج جو دودھ ختم ہونے پر خود آرڈر دے دے یا ایسے بلب اور سینسر جو گھر کی روشنی اور سکیورٹی کو خودکار انداز میں کنٹرول کریں۔
اگرچہ مارکیٹ میں اسمارٹ برتن دھونے والی مشینیں، کافی بنانے والی مشینیں اور دھواں محسوس کرنے والے آلات بڑی تعداد میں آئے، لیکن عام صارفین میں اس نظام کو وہ مقبولیت حاصل نہ ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ اسمارٹ گھر کا پیچیدہ ہونا تھا۔ ان آلات کو استعمال کرنے کے لیے کئی مختلف ایپلی کیشنز انسٹال کرنا پڑتی تھیں اور بعض اوقات سافٹ ویئر کی اپ ڈیٹس بند ہونے کے بعد آلات کام کرنا بھی چھوڑ دیتے تھے۔ اس کے علاوہ صارفین کو اپنی ذاتی معلومات کے تحفظ کے بارے میں بھی خدشات لاحق رہتے تھے۔
اب ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہی ہیں۔ گوگل اور ایمیزون کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے نئے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے معاونین گھریلو آلات کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے اور انہیں استعمال کرنے کا عمل آسان بنا دیں گے۔
ان کے مطابق پہلے اسمارٹ گھر کا نظام زیادہ تر ایسے لوگوں تک محدود تھا جو ٹیکنالوجی کے بارے میں زیادہ معلومات رکھتے تھے، لیکن اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے عام خاندان بھی آسانی سے اس نظام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے معاونین کے ذریعے لوگ صرف بول کر اپنے گھر کے آلات کو مختلف کاموں کے لیے پروگرام کر سکیں گے۔ مثال کے طور پر اگر گھر میں دھواں محسوس کرنے والا آلہ فعال ہو جائے تو روشنی کے بلب خود بخود سرخ ہو جائیں یا کسی سینسر کے حرکت محسوس کرنے پر الارم بجنے لگے۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطاق جب اس نظام کو عملی طور پر آزمایا گیا تو کئی مشکلات سامنے آئیں۔ ایک تجربے کے دوران انٹرنیٹ سے منسلک بلب، دروازے کے سینسر، حرکت محسوس کرنے والے سینسر اور پانی کے رساؤ کا پتہ لگانے والے آلات نصب کیے گئے۔ اگرچہ بعض کام آسانی سے ہو گئے، جیسے کہ بلب کو ایک مخصوص وقت پر خود بخود بند کرنا، لیکن کئی مسائل بھی سامنے آئے۔
مثال کے طور پر بلب کو کنٹرول کرنے کے لیے مرکزی ایپلی کیشن کے علاوہ اس بلب کی اپنی علیحدہ ایپلی کیشن بھی ڈاؤن لوڈ کرنا پڑی، جس سے عمل مزید پیچیدہ ہو گیا۔ اسی طرح دروازے کے سینسر نے بعض اوقات غلط الارم بھی دیا جبکہ حرکت محسوس کرنے والے سینسر کو مخصوص تاریخوں کے لیے پروگرام کرنا بھی ممکن نہ ہو سکا۔
پانی کے رساؤ کا سینسر نصب کرتے وقت بھی مشکلات پیش آئیں کیونکہ اکاؤنٹ کی تصدیق کے لیے آنے والی ای میل دیر سے موصول ہوئی۔ اس طرح کے مسائل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسمارٹ گھر کا نظام ابھی تک مکمل طور پر آسان اور قابلِ اعتماد نہیں بن سکا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ گھر کے آلات کو واقعی مقبول بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں استعمال کرنا بہت زیادہ آسان ہو اور صارفین کو متعدد ایپلی کیشنز اور پیچیدہ مراحل سے نہ گزرنا پڑے۔ اگر مستقبل میں مصنوعی ذہانت اس پورے نظام کو ایک ہی پلیٹ فارم کے ذریعے کنٹرول کرنے کے قابل بنا دے تو ممکن ہے کہ اسمارٹ گھر کا تصور عام لوگوں میں بھی مقبول ہو جائے۔