فطرت سے تاریخ و ثقافت تک، کمراٹ کا ‘گمنام کوہستانی’ کون ہے؟

کمراٹ جانے والے سیاح اب نہ صرف فطرت کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں بلکہ وہاں کی تاریخ، زبان، تہذیب اور ثقافت بھی جان سکتے ہیں جبکہ پہاڑوں پر اپنے نام سے منسوب دیار کا پودا لگا کر نشانی بھی چھوڑ سکتے ہیں۔

کمراٹ کے گاؤں ‘کلکوٹ’ سے تعلق رکھنے والے ‘گمنام کوہستانی’ کے نام سے مشہور گائیڈ عمران خان آزاد نے جاز بانڈہ کمراٹ ویلی میں ایک چھوٹا سا کیمپ ہوٹل بنا یا ہے، جہاں واٹر پروف کیمپ، صاف ستھرا بستر اور مقامی روایاتی کھانے دیے جارہے ہیں، جن میں مکئی کی روٹی، مختلف قسم کے مقامی ساگ، دودھ سے بنی چیزیں ،دہی، لسی، متر، پنیر اور دیسی گھی سمیت ہندوکش کی مشہور لسی وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس ہوٹل کیمپ میں ایک چھوٹی سی لائبریری بھی موجود ہے، جس میں شمالی پاکستان اور شمال مشرقی افغانستان کی تاریخ، زبانوں، ثقافت اور سیاحت سمیت سماجی مسائل پر کتابیں دستیاب ہیں۔

تاشقند اردو سے بات کرتے ہوئے عمران خان آزاد نے بتایا کہ’ ماحول دوست سیاحت میرا اصل مقصد ہے، اس لیے اس ہوٹل کیمپ میں دیار کے پودے بھی رکھے گئے ہیں۔ ہمارے معزز مہمان اگر چاہے تو ایک پودا لگا کر درختوں کی شکل میں ان پہاڑوں میں اپنی نشانی چھوڑ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مہمانوں کے لیے مقامی موسیقی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ ‘

عمران خان آزاد کو زیادہ تر لوگ گمنام کوہستانی کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ 2011 سے وادی دیر اور کمراٹ کی تاریخ، ثقافت، سیاحت، مذاہب اور زبانوں پر کام کر رہے ہیں۔ عمران خان آزاد بنیادی طور پر ایک لکھاری ہیں اور ‘ہیرالڈ ایشیاء’ نامی جریدے کے لیے دیر اور کوہستان کے نمائندے بھی ہیں۔ ان کے کام کی طرح سیاحت کے شعبے میں قدم رکھنے کا ان کا سفر بھی کافی دلچسپ ہے۔

عمران خان آزاد نے کمراٹ کی سیاحت پر کیسے کام شروع کیا؟

وہ کہتے ہیں کہ ‘ہمارے ہاں پہلے پہل مقامی لوگ سیاحوں کی آمد کو اپنی تہذیب اور ثقافت کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ مغربی لباس زیب تن کیے خواتین اور مرد سیاحوں سے ہمارے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔’

‘ابتدائی طور پر میں نے اپنے ہی نام سے کمراٹ کی سیاحت کے فروغ کے لیے کام کیا۔ ان دنوں میں کراچی میں رہائش پذیر تھا۔ وہاں فیس بک کے بارے میں معلوم ہوا تو سوشل میڈیا پر کمراٹ کی تصویریں ڈالنا شروع کیں لیکن جلد ہی بڑوں کی ناراضی اور مزاحمت کے نتیجے میں یہ سلسلہ روکنا پڑا۔’

یہاں سے عمران خان آزاد نے2011 میں ‘گمنام کوہستانی’ کے نام سے فیک فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے کمراٹ کی تاریخ، ثقافت، زبانوں اور سیاحت پر تحریری کام شروع کیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر ان علاقوں کے سماجی مسائل جیسے غیرت کے نام پر قتل، خواتین کی تعلیم اور چائلڈ میرج کو اپنا موضوع بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ ‘اس نام کے ساتھ کام کرتے ہوئے 2016 تک پانچ سال بیت گئے تھے جب جشن کمراٹ کے موقع پر یہ اعلان ہوا کہ’ گمنام کوہستانی’ نے اس علاقے کی ترقی کے لیے کافی کوششیں کی ہیں اور وہ آکر اپنی خدمت کے بدلے انعام وصول کرے۔ اس سے پہلے بھی علاقہ مکینوں کی جانب سے دو بار ایسے اعلانات سامنے آئے تھے لیکن میں خوف اور ڈر کی وجہ سے آگے نہ بڑھ سکا تھا کیونکہ ان موضوعات پر بات کرنے کی وجہ سے یہ میرے لیے خطرناک ہو سکتا تھا، اگر میرا اصل نام سامنے آ جاتا۔’

تاہم، پانچ سال کے اس عرصے میں وادی کمراٹ کے لوگوں کے تصورات کافی بدل گئے تھے۔ اس وجہ سے عمران خان آزاد اس دن ہمت کر کے آگے بڑھ گئے اور گمنام کوہستانی کے پیچھے ان کی پہچان سب کے سامنے آگئی۔ یعنی، خوف کی وجہ سے رکھا یہ نام ان کی اصل شناخت بن گیا۔

ان کے مطابق کمراٹ کے سیاحتی مقامات کو ان کے پرانے مقامی ناموں سے پہلی بار انہوں نے روشناس کرایا۔ کمراٹ آبشار کا اصل نام کوتگل اور لال گاہ آبشار ہے جبکہ کٹورہ جھیل کو گھانسر کہتے ہیں۔ یہ نام پہلی مرتبہ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے منظر عام پر لے کر آئے۔

عمران خان آزاد کے نزدیک سیاحت صرف فطرت کی رنگینیوں کا نام نہیں ہے بلکہ اس سے منسلک آثار قدیمہ، تاریخ، خوراک، ثقافت اور مذاہب کے بارے میں جانکاری بھی ضروری ہے۔ ان تمام پہلوؤں میں وہ سیاحوں کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں جبکہ کمراٹ کے سیاحتی مقامات پر ایک تفصیلی کتاب بھی لکھ رہے ہیں۔

اس کے علاوہ پورے شمال بیلٹ کی تاریخ اور سیاحت کو بھی قلم بندکر رہے ہیں، جس میں لداخ سے لے کر کشمیر، گلگت بلتستان، دیر، کوہستان، سوات، چترال، وادی کلاش، نورستان، کنڑ، لغمان یعنی کاپیسا سے کشمیر اور ملاکنڈ سے واخان تک ان علاقوں کی پوری تاریخ موجود ہوگی۔

عمران خان آزاد کو اس پورے سفر میں شدید مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ ابتداء میں ان کے نام سے سیاح ان علاقوں میں آتے تھے، جسے لے کر اہلِ خانہ اور علاقہ مکین ناراض ہوتے تھے۔ تاہم، گمنام کوہستانی سے تاریخ کی ترتیب کے اس پورے عرصے میں انہوں نے اپنے مقصد کو کبھی فراموش نہیں کیا اور تسلسل کے ساتھ اس شعبے میں اپنا نام بناتے گئے۔

وادی کمراٹ تاریخی لحاظ سے کتنا اہم ہے؟

عمران خان آزاد نے بتایا کہ’ دیر میں رہنے والے کوہستانیوں کے لیے کمراٹ کی حیثیت کسی زمانے میں مقدس جگہ کی ہوتی تھی۔ اس وجہ سے زمانہ دراز تک یہاں کسی لشکر نے فتح کی غرض سے قدم نہیں رکھے۔ ہمارے بزرگوں کے مطابق ان علاقوں کے بارے میں تصور تھا کہ یہاں قدیم مذہب کے دیوتا رہتے تھے، جن کی پوجا کی جاتی تھی۔ کمراٹ کے دروازے دنیا کے لیے 2014 کے بعد کھلے ہیں۔ اس سے پہلے یہ علاقہ دنیا کے لیے گمنام تھا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں