سمرقند کے ضلع ارغت (Urgut) کی حدود میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں “کرا تَپا” (Karatepa) قدرتی حسن کا ایک نایاب خزانہ اپنے دامن میں سمیٹے بیٹھا ہے۔ یہاں کے دلکش مناظر، تاریخ سے جُڑی ہوئی پہاڑیاں اور زرافشاں پہاڑی سلسلے کے دامن میں بکھرے عظیم الجثہ پتھر، ماضی کی تہذیب کا عکس دکھاتے ہیں اور دیکھنے والے کو جیسے کسی طلسماتی دنیا میں لے جاتے ہیں۔انہی مناظر میں ایک عجیب و غریب چٹان “تشکتاش” کے نام سے مشہور ہے، جس کے دامن میں تصویر بنائے بغیر کوئی سیاح واپس نہیں لوٹتا تشکتاش درحقیقت قدرت کا ایک حیرت انگیز شاہکار ہے۔ یہ کوئی انسانی فن پارہ نہیں بلکہ ہواؤں اور برسوں کی قدرتی کٹاؤ کا نتیجہ ہے۔ یہ چٹان نہایت دلکش انداز میں تراشی گئی ہے جیسے فطرت نے خود اسے چُنا اور سنوارا ہو۔کچھ لوگ اسے دو بڑے ڈایناسورز کے سر کی باہمی ٹکر سے تشبیہ دیتے ہیں، تو کچھ اسے انسانی دل سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیا کے صرف چند ہی ممالک میں ایسی منفرد چٹانیں پائی جاتی ہیں، لیکن تشکتاش اپنی ساخت، جسامت اور وزن کے اعتبار سے باقی تمام سے مختلف اور منفرد مقام رکھتی ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق اس چٹان کی عمر 25 لاکھ سال سے زائد ہو سکتی ہے۔سمرقند آنے والے بیشتر غیر ملکی سیاحوں کی اولین خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ ارغت جا کر “تشکتاش” کا نظارہ کریں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایکو ٹورازم اور ایتھنو ٹورازم (ثقافتی سیاحت) کی مکمل جھلک نظر آتی ہے۔یہ انفرادیت صرف سیاحوں کو ہی نہیں، بلکہ غیر ملکی فلم سازوں کو بھی کھینچ لائی۔ مشہور جرمن اداکار گوئیکو مِٹچ کی فلمیں “اپاچی” اور “الزانہ”، جن میں چِنگاچگوک کا کردار ادا کیا گیا، اُن کے کئی مناظر اسی مقام پر فلمائے گئے۔ مقامی افراد نے بھی ان فلموں میں شرکت کی، اور دلچسپ بات یہ کہ فلم میں استعمال ہونے والے گھوڑے بھی ارغت کے باشندوں نے بطور تحفہ پیش کیے۔یہ تقریباً پچاس سال پرانی بات ہے، مگر تب سے لے کر اب تک اس مقام کو کئی ڈاکومنٹری اور فیچر فلموں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
سیاحوں کی مسلسل آمد اور بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باعث حکومت نے یہاں ایک باقاعدہ “تشکتاش ٹورسٹ ریزورٹ” قائم کر دیا ہے، جو 55 ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں سیاحوں کے لیے گیسٹ ہاؤسز، کاٹجز، ہوٹلز، ساحلی تفریح گاہ، اور بچوں کے لیے پارک بنانے کے منصوبے جاری ہیں۔
اس کے علاوہ ہزاروں پستہ اور بادام کے درخت بھی لگائے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہاں گھڑ سواری، اونٹ اور بکری کے دودھ کا ذائقہ چکھنے جیسی روایتی سرگرمیوں کی سہولیات بھی میسر ہوں گی۔مؤرخین کے مطابق، یہ راستہ امیر تیمور کے سفرِ سمرقند تا شہرسبز کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ بعض روایات کے مطابق سکندرِ اعظم بھی انہی پہاڑی راستوں سے گزرا تھا۔ آج بھی اگر کوئی ان راستوں پر چل کر “تشکتاش” کی بلند پہاڑی پر کھڑی اس عجیب و نایاب چٹان کو دیکھنا چاہے تو اُسے ضرور ارغت کا رخ کرنا چاہیےکیونکہ بعض مناظر صرف تصویر میں دیکھنے کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ اُن کے قریب جا کر سانس لینا، اُنہیں چھونا اور اُن سے جُڑ جانا ضروری ہوتا ہے اور تشکتاش، بلا شبہ، ایسا ہی ایک منظر ہے۔